تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 152
152 سفروں میں بھی جاتے رہے۔بعد میں یکہ بانی کرتے رہے۔بوجہ ان پڑھ ہونے کے انہوں نے بیعت نہ کی۔بعد میں خلافت ثانیہ میں آپ نے بیعت کی۔ماخذ : (۱) براہین احمدیہ حصہ اول روحانی خزائن جلد ۱ (۲) ازالہ اوہام روحانی خزائن ۳ (۳) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد۴ (۴) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۵) کتاب البریه (۶) تریاق القلوب ( ۷ ) ملفوظات جلد دوم (۸) سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر ۱۹۲ ۱۶۳ (۹) تذکرة المهدی (۱۰) تاریخ احمدیت جلد اول (۱۱) سیکھوانی برادران مولفہ احمد طاہر مرزا غیر مطبوعہ۔☆ ۹۷- حضرت منشی فتح محمد مع اہلبیت بز دارلیۃ۔ڈیرہ اسماعیل خان بیعت: ۱۸۹۵ ء سے قبل۔وفات: اپریل ۱۹۰۵ء تعارف: حضرت منشی فتح محمد خان رضی اللہ عنہ بلوچ بُز دار خاندان کے چشم و چراغ تھے۔آپ کے والد ماجد کا نام محمد خان بز دار تھا آپ لیہ کے رہنے والے تھے جو ان دنوں ضلع ڈیرہ اسمعیل خان میں شامل تھا۔آپ گورنمنٹ انگریزی کے محکمہ ڈاک میں بطور اسسٹنٹ پوسٹماسٹر ملازم تھے۔بیعت : آپ کی بیعت کا زمانہ ۱۸۹۵ء سے قبل کا معلوم ہوتا ہے۔آپ کی ہمشیرہ محترمہ غلام فاطمہ صاحب کے الہام تھیں۔انہیں حضرت اقدس کے دعوئی مسیحیت و مہدویت کی خبر ملی اس کی شہادت حضرت فتح محمد بزدار نے ایک اشتہار میں ۱۲ مئی ۱۸۹۷ء کو شائع کرائی۔ستمبر ۱۸۹۵ء میں حضرت مسیح موعود نے حکومت کے نام ایک اشتہار شائع کیا جس کے آخر میں اپنی جماعت کے تقریباً ۷۰۰ افراد کے نام درج فرمائے حضرت منشی فتح محمد خان صاحب کا نام بھی بلا ومتفرقات کے تحت شامل ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ۱۸۹۵ ء تک آپ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو چکے تھے حضور کا یہ اشتہار کتاب آریہ دھرم میں درج ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر: سراج منیر کے آخر میں ” فہرست چندہ برائے طیاری مہمان خانہ و چاه وغیرہ کے تحت شامل اسماء میں آپ کا چندہ پانچ روپے اور تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی ۱۸۹۷ء کے تحت آپ کے ایک روپیہ چندے کا ذکر ہے۔کتاب البریہ میں بھی آپ کا نام فہرست احباب میں درج ہے۔وفات : آپ علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان میں نمایاں احمدی تھے۔آپ کی وفات ۱۹۰۵ء میں اپریل کے آخری ہفتے میں ہوئی۔آپ کے بھائی مکرم محمد حسین صاحب بلوچ نے اخبار کے نام مرسلہ مکتوب میں آپ کی وفات کی اطلاع دیتے ہوئے لکھا:۔فسوس که نیازمند کا بزرگ بھائی فتح محمد خان بلوچ بزدار اس دنیائے دوں سے عالم بالا کو چل بسے ہیں اگر چه برادر موصوف دنیاوی معاملات کے علاوہ مذہبی خیالات میں بھی بندہ سے کچھ مختلف تھے ان کی وفات نے