تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 112 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 112

112 میں شریک اور پُر امن جماعت میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔وصیت : آپ کو ۱۹۰۸ء میں وصیت کی توفیق حاصل ملی۔یہ وصیت ۰ار فروری ۱۹۰۸ء کو الحکم قادیان میں شائع ہوئی۔وفات : میاں صاحب آخر تک کام کاج کرتے رہے۔۸۵ سال کی عمر میں ۱۹۳۰ء میں وفات پائی اور گاؤں کے قبرستان میں دفن ہوئے۔اولاد آپ کے بیٹے بھی رفیق بانی سلسلہ تھے جن کا ذکر آپ کی وصیت میں ہے۔بیٹے کا نام حضرت محمد عمر صاحب تھا۔آپ کے نواسہ رائے محمد عیسی صاحب تھے جن کے بیٹے رائے بشیر احمد صاحب کے بیٹے رائے رضوان بشیر صاحب آج کل شاہدرہ ٹاؤن لاہور میں رہتے ہیں۔ماخذ: (۱) رجسٹر بیعت اولی مندرجه تاریخ احمدیت جلد اول صفحه ۳۵۱ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) اخبار الحکم قادیان ۱۹۰۸ء (۵) بیان مکرم ناصر احمد بھٹی صاحب معلم وقف جدید چک ۲۷۸ گ ب شیر کا۔☆ ۶۲۔حضرت میاں اسمعیل صاحب۔۔۔۔۔سر ساوه بیعت : ابتدائی زمانہ۔وفات : ۲۵ جون ۱۹۴۴ء تعارف و بیعت : حضرت محمد اسمعیل سرساوی رضی اللہ عنہ حضرت پیر جی ( سراج الحق نعمانی جمالی سرساوی) کے ہم وطن اور شاگرد تھے۔پیر جی سے بڑی محبت رکھتے تھے۔چونکہ تخم سعادت دل میں تھا۔دعائیں کرتے رہے جو کارگر ہوئیں اور خدا تعالیٰ نے راہ راست دکھا دی اور حق کو قبول کرنے کی توفیق عطا کی۔۱۸۹۴ء میں قادیان آگئے تھے۔حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی کے ذریعہ بیعت کی۔حضرت اقدس کے زمانہ میں اذان کہنے کی توفیق ملتی رہی۔بحیثیت استاد تعلیم الاسلام ہائی سکول آپ کو تعریفی کلمات سے نوازا گیا۔ایک دن سورۃ الکافرون کی آیت لکم دینکم ولی دین “ کی حضرت پیر صاحب سے تفسیر سن کر آپ کی آنکھیں کھل گئیں۔آپ حضرت اقدس علیہ السلام کی باتیں اور کلمات طیبات کو شوق سے سنتے تھے۔قادیان آمد اور حضرت اقدس کی خدمت کچھ عرصہ بعد قادیان چلے آئے اور اکثر حضرت اقدس علیہ السلام کے پس پشت بیٹھ کر کندھے، گردن اور بازو دبایا کرتے تھے۔حضرت مولوی عبدالکریم سیالکوٹی اور مولانا برہان الدین جہلمی کے ایسا کرنے سے منع کرنے پر آپ نے حضرت اقدس سے پوچھ لیا کہ آپ کو اس سے تکلیف تو نہیں