تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 69
69 ایک وقت میں قادیان میں تھا کہ سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراس والے وہاں آئے ہوئے تھے جن کا اسباب کا لدا ہوا جہاز گم ہو گیا تھا اور وہ ابتلاء میں تھے۔حضرت صاحب سے مشورہ لیتے تھے کہ جہاز گم ہو گیا ہے اور روپے کی زیر باری ہو گئی ہے۔قرض خواہ قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہیں تو پھر کیا دیوالیہ نکال دیا جائے یا اور جو تجویز آپ فرما دیں عمل میں لائی جائے اور دعا بھی کریں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ جو کچھ بھی آپ کے پاس ہے یعنی ظاہری جائیداد اور بار یک در بار یک چیز یں قیمتی بھی جو تمہارے پاس ظاہر اور نہاں ہیں قرض خواہوں کے آگے پیش کر دیں اور ہم انشاء اللہ دعا بھی کریں گے۔چنانچہ سیٹھ صاحب نے ایسا ہی کیا یعنی وہ چیزیں جو نہاں در نہاں پردہ میں ان کے پاس تھیں انہوں نے سب قرض خواہوں کو بلا کر پیش کر دیں۔جب قرض خواہوں نے ظاہر جائیداد کے علاوہ اور قیمتی چیزیں بھی دیکھیں جو ان کے خواب خیال میں بھی نہیں آسکتی تھیں کہ ان کے پاس ہوں گی تو تمام قرض خواہ سیٹھ صاحب کی ایمانداری پر قربان ہو گئے اور انہوں نے ان کی تمام جائیداد زیورات اور قیمتی چیزیں سب کی سب واپس کر دیں اور کہا کہ ہمارا دل مطمئن ہو گیا ہے تم اس روپے سے یا اور ضرورت ہو تو ہم سے لے کر اپنا کاروبار جاری رکھو اور جب تمہارے پاس روپیہ ہو جائے تو ہمارا قرض ادا کر دیں۔خدا کی قدرت کہ تین سال بعد گم شدہ جہاز کہیں پکڑا گیا اور آخر وہی جہاز مع تمام اسباب کے ان کو دستیاب ہو گیا۔یعنی تقریباً تین لاکھ کا مال ان کومل گیا جس سے سیٹھ صاحب نے تمام قرض بھی اتار دیا اور ان کا حال بھی آسودہ ہو گیا۔اس طرح حضرت مسیح موعود کی تجویز پر عمل کرنے اور دعا سے سیٹھ صاحب کی بگڑی بن گئی۔حضرت اقدس کی کتب میں آپ کا ذکر : حقیقۃ الوحی میں نشانات حضرت اقدس کے گواہ ،سراج منیر میں چندہ دہندگان اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت میں آپ کا ذکر ہے۔حضرت اقدس نے اشتہارالانصارم را کتوبر ۱۸۹۹ء میں آپ کی مالی قربانیوں کو نمونہ قرار دیتے ہوئے لکھا ان کا صدق اور ان کی مسلسل خدمات جو محبت، اعتقاد اور یقین سے بھری ہوئی ہیں تمام جماعت کے ذی مقدرت لوگوں کے لئے ایک نمونہ ہیں۔“ آپ کے نام حضرت اقدس کے بہت سارے خطوط مکتوبات احمد یہ جلد پنجم میں موجود ہیں۔ضمیمہ انجام آتھم میں بھی حضرت اقدس نے فرمایا ہے مدراس سے دور دراز سفر کر کے میرے پاس تشریف لائے ہوئے ہیں۔۔۔جنہوں نے کئی ہزار روپیہ ہمارے سلسلہ کی راہ میں محض اللہ لگا دیا ہے اور برابر ایسی سرگرمی سے خدمت کر رہے ہیں کہ جب تک انسان یقین سے نہ بھر جائے اس قدر خدمت نہیں کر سکتا وہ ہمارے درویش خانہ کے مصارف کے اول درجہ کے خادم ہیں۔انہوں نے ایک سو روپیہ ماہواری اعانت کے طور پر اپنے ذمہ واجب کر رکھا ہے۔“