تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 65
65 میں بھی ذکر ہے۔نورالقرآن نمبر ۲ میں حضرت اقدس امام کامل کی خدمت میں رہنے والوں میں آپ کا ذکر ہے۔خدمات دینیہ ابتداء میں صاحبزادہ صاحب قادیان کے سکول میں مدرس تھے۔حضرت مولانا عبد الکریم نے حضرت اقدس کی اجازت سے صاحبزادہ صاحب کو حضرت اقدس کا محرر ( لنگر اور سکول کا چندہ اور حضرت اقدس کی ڈاک کے کام کے لئے ) رکھ لیا۔آپ نے ایک کتاب افتخار الحق لکھی جو آپ کے صوفیانہ مزاج کا پتہ دیتی ہے۔اللہ تعالیٰ اور اس کے پیاروں سے تعلق کے ضمن میں لکھتے ہیں بادشاہ کے خادم بھی اس دستر خواں سے حصہ پاتے ہیں جو بادشاہوں کے سامنے چنا جاتا ہے صبر و رضا کے بارے میں لکھتے ہیں: ”خدا کے فضل اور رحم سے صابرین اور شاکرین کے لئے تکلیفیں ان پھلوں کی طرح ہیں جو پھلدار درختوں میں لگتے ہیں۔پھول جھڑ جاتے ہیں اور پھل رہ جاتے ہیں“ وفات : حضرت صاحبزادہ صاحب ۸/ جنوری ۱۹۵۱ء کو رحلت فرما گئے وصیت نمبر ۱۰۱۱ اور آ پکی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں قطعہ نمبر ۱۰ حصہ نمبر ۱۹ میں ہوئی۔اولاد: آپ نے تین شادیاں کیں۔(۱) حضرت ملکہ جان صاحبہ (۲) حضرت فاطمہ عمر دراز صاحبہ۔دوسری اہلیہ حضرت فاطمہ عمر دراز سے اولاد ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے ان سے آپ کو ۱۶ بیٹے بیٹیوں سے نوازا۔جن میں حضرت پیر مظہر قیوم صاحب، حضرت پیر مظہر الحق صاحب ، حضرت پیر خلیل احمد صاحب اور حضرت پیر حبیب احمد صاحب معروف ہیں۔حضرت پیر حبیب احمد صاحب کی اولاد میں مکرم زاہد محمود صاحب مربی سلسلہ اور مکرم عبدالرحمن صاحب فیصل آباد جن کا وصال ۲۰۱۰ ء میں ہوا۔ماخذ : (۱) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۲ (۲) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد۲ (۳) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۴) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۵) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد۱۳ (۶) نور القرآن نمبر ۲ (۷) انعامات خداوند کریم (۸) مضمون حضرت صاحبزادہ پیر افتخار احمد صاحب لدھیانوی مطبوعہ ماہنامہ انصار اللہ ربوہ مئی وجون ۱۹۹۹ء (۹) رجسٹر بیعت مطبوعہ تاریخ احمدیت جلدا۔☆ ۲۷۔حضرت صاحبزادہ منظور محمد صاحب معہ اہلبیت حال قادیانی بیعت ۱۶ / فروری ۱۸۹۲ء۔وفات ۲۱ جون ۱۹۵۰ء تعارف: حضرت صاحبزادہ پیر منظور محمد رضی اللہ عنہ حضرت صوفی احمد جان کے بیٹے تھے۔آپ نقشبندیہ طریق تصوف پر کار بند تھے۔ابتدائی تعلیم وتربیت آپ کے والد صاحب کے ذریعہ سے ہوئی۔