تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 58
58 اولاد : آپ کے دو بیٹوں (۱) جناب محمد اسمعیل غلام کبریا اور (۲) جناب احمد حسن صاحب کے نام ۳۱۳ (ضمیمہ انجام آتھم ) میں درج ہیں۔ماخذ: (۱) رجسٹر بیعت مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحہ ۳۴۷ (۲) ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۳ (۳) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۴) انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۵) تحفہ قیصر یہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۶) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۷) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۸) حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۴۶ - ۳۴۶ (۹) تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه ۱۸۵ (۱۰) تذکرۃ المہدی حصہ اول صفحه ۱۵ (۱۱) خطبات محمود از حضرت خلیفہ اسیح الثانی خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۲۶ء (۱۲) یا در رفتگان صفحه ۲۵-۳۷ ۲۳۔حضرت مولوی حاجی حافظ حکیم فضل دین صاحب معہ ہر دوز وجہ بھیرہ ضلع شاہ پور ولادت : ۱۸۴۲ء۔بیعت : ۱۸۹۱ء۔وفات: ۸/ابریل ۱۹۱۰ء تعارف: حضرت حکیم مولوی حافظ فضل الدین رضی اللہ عنہ بھیرہ کی ایک معزز خواجہ فیملی سے تعلق رکھتے تھے جو حضرت مولانا نورالدین صاحب (خلیفہ اسیح الاوّل) کے بچپن کے دوست تھے۔آپ اکثر حضور کی خدمت میں قادیان حاضر ہوتے تھے۔بیعت : آپ کی بیعت ۱۸۹۱ء کی ہے کیونکہ ازالہ اوہام کی تصنیف کے وقت آپ کے صدق و اخلاص اور مالی قربانی کا ذکر ہے۔آپ کی ہر دوز وجہ نے بیعت کی۔آپ کی اہلیہ حضرت فاطمہ صاحبہ کی بیعت کا اندراج رجسٹر بیعت میں ۱۰۳ نمبر پر ہے۔آپ کی دوسری زوجہ حضرت مریم بی بی صاحب تھیں۔خدمات دینیہ اور تعلق محبت : آپ سلسلہ کی خدمت دل کھول کر کرتے تھے۔آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود کی خوشنودی حاصل تھی۔ایک روز حکیم فضل الدین نے حضرت اقدس مسیح موعود سے عرض کیا کہ یہاں میں نکما بیٹھا کیا کرتا ہوں مجھے حکم ہو تو بھیرہ چلا جاؤں وہاں درس قرآن کروں گا یہاں مجھے بڑی شرم آتی ہے کہ میں حضور کے کسی کام نہیں آتا اور شاید بیکار بیٹھنے میں کوئی معصیت ہو حضور نے فرمایا آپ کا بیکار بیٹھنا بھی جہاد ہے اور یہ بے کاری ہی بڑا کام ہے۔غرض بڑے دردناک اور افسوس بھرے لفظوں میں نہ آنے والوں کی شکایت کی اور فرمایا۔یہ عذر کرنے والے وہی ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں عذر کیا تھا۔اِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ اور خدا تعالیٰ نے ان کی تکذیب کر دی۔