تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 19
19 ☆ -1۔حضرت منشی جلال الدین صاحب بلانوی پنشنز سابق میر منشی رجمنٹ نمبر ۱۲ موضع بلانی کھاریاں ضلع گجرات ولادت ۱۸۳۰ء۔بیعت مئی ۱۸۸۹ ء۔وفات اگست ۱۹۰۲ء تعارف : حضرت منشی جلال الدین رضی اللہ عنہ مغل برلاس خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔آپ کے آباؤ اجدا دقندھار (افغانستان ) سے ہجرت کر کے صوبہ پنجاب کے علاقہ گجرات میں آئے تھے۔آپ کے والد کا نام مرزا غلام قادر صاحب تھا جو اس علاقہ میں طبیب تھے۔ولادت و ابتدائی حالات: آپ ۱۸۳۰ء کو موضع بلانی میں پیدا ہوئے۔آپ کی عمر سات سال تھی کہ آپ کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔چنانچہ آپ کے ماموں مرزا زین العابدین نے آپ کے لئے گھر پر اساتذہ رکھ کر آپ کو تعلیم دلائی۔آپ فارسی اور عربی کے معروف عالم تھے۔چودہ برس کی عمر میں آپ کی شادی ہوگئی اور اسی عمر میں آپ کو سرکاری ملازمت مل گئی۔۱۸۶۴ ء تک ملازمت کرتے رہے۔بعد ازاں میر منشی کے طور پر فوج میں بھرتی ہو گئے اور ۱۸۹۵ء میں فوج سے ریٹائر ہوئے۔حضرت اقدس سے تعلق : ۱۸۷۸ء میں اخبار منشور محمدی بنگلور میں آپ کی نظر سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ایک مضمون گزرا۔مضمون پڑھتے ہی دل نے گواہی دی کہ یہ مضمون کسی عام آدمی کا نہیں ہوسکتا۔یہ یقیناً وہی شخص ہے جس کی آمد کے بارے میں حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیاں ہیں۔چنانچہ آپ قادیان کے لئے روانہ ہو گئے مگر کسی روک کے باعث آپ واپس لوٹ آئے۔بیعت کا پس منظر : ایک دفعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت خواب میں ہوئی تو دل کی بے قراریاں اور بڑھ گئیں۔دوبارہ جب حضرت اقدس کی زیارت خواب میں ہوئی تو آپ نے حضور کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا حضور ! آپ مجھے اپنے نام اور جائے قیام سے مطلع فرما ئیں تو حضرت نے آپ کو نام اور رہائش بتادی۔جب آپ کی رجمنٹ جھانسی چلی گئی تو ۱۸۸۲ء یا ۱۸۸۳ء میں آپ نے چند ماہ کی رخصت لی اور قادیان کے لئے رخت سفر باندھا۔یکے والا حضرت اقدس کے علاوہ کسی اور کے پاس آپ کو لے گیا تو آپ نے کہا کہ یہ وہ شخص نہیں اس پر یکے والا آپ کو حضرت اقدس کے پاس لے گیا۔حضور پر نور کو دیکھتے ہی آپ نے پہچان لیا اور بیعت کی درخواست کی لیکن حضرت اقدس نے فرمایا کہ ابھی بیعت لینے کا حکم نہیں ملا۔بیعت: جب حضرت اقدس نے بیعت کا اعلان فرمایا تو آپ نے فوراً بیعت کر لی۔رجسٹر بیعت میں آپ کی بیعت ۹۳ نمبر پر درج ہے۔بیعت کے بعد ایک نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی کہ آپ کی عبادات میں اس قدر رقت اور