تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 17
17 وَكَمْ مِّنْ عِبَادِ الْرُونِي بِصِدْقِهِمْ کلام حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمد یہ وَإِنِّي بِبُرُهَـــانٍ قَوِيٌّ دَعَوْتُهُمُ وَإِنِّي مِنَ الرَّحْمَنِ حَكَمٌ مُعَدِّمِرُ اور میں نے ایک قومی حجت کے ساتھ اُن کو بلایا ہے اور میں خدا کی طرف سے اختلاف کا فیصلہ کرنے والا آیا ہوں وَقَدْ جِئْتُ فِي بَدْرِ الْمِنِينَ لِيَعْلَمُوا كَمَالِي وَنُوُرِى ثُمَّ هُمُ لَمْ يَبْصُرُوا اور میں ان کے پاس چودھویں صدی میں آیا جو صدیوں کی بدر ہے تا کہ وہ میرا کمال اور میر انور جان لیں۔پھر وہ نہیں دیکھتے وَإِنَّ الْوَرى مِنْ كُلِّ فَجٍّ يَجِيتُنِي وَيَسْعَى إِلَيْنَا كُلُّ مَنْ كَانَ يُبْصِرُ اور مخلوق ہر ایک راہ سے میرے پاس آ رہی ہے اور ہر ایک دیکھنے والا میری طرف دوڑ رہا ہے وَكَمْ مِّنْ عِبَادٍ أَثَرُونِي بِصِدْقِهِمْ عَلَى النَّفْسِ حَتَّى خُوِّفُوا ثُمَّ دُمِّرُوا بہت سے بندے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جان پر مجھ کو اختیار کر لیا یہاں تک کہ ڈرائے گئے پھر قتل کئے گئے وَمِنْ حِزْبِنَا عَبْدُ اللَّطِيفِ فَإِنَّهُ ارىٰ نُورَ صِدْقٍ مِنْهُ خَلْقٌ تَهَكَّرُوا اور ہمارے گروہ میں سے مولوی عبد اللطیف ہیں کیونکہ اس نے اپنے صدق کا نو ر ایسا دکھلایا کہ اسکے صدق سے لوگ حیران ہو گئے جَزَى اللَّهُ عَنَّا دَائِمًا ذَلِكَ الْفَتَى قَضَى نَحْبَهُ لِلَّهِ فَاذْكُرُ وَفَكِّرُ خدا اس جوان کو بدلہ دے وہ اپنی جان خدا کی راہ میں دے چکا۔پس سوچ اور فکر کر عِبَادٌ يَكُونُ كَمُبْسِرَاتٍ وُجُودُهُمْ إِذَامَا آتَوُا فَالْغَيْـتُ يَأْتِي وَيَمْطُرُ یہ وہ بندے ہیں کہ مون سون ہوا کی طرح ان کا وجود ہوتا ہے جب آتے ہیں تو ساتھ ہی بارش رحمت کی آتی ہے أَتَعْلَمُ أَبْدَالا سِوَاهُمْ فَإِنَّهُمُ رُمُوا بِالْحِجَارَةِ فَاسْتَقَامُوا وَأَجْمَرُوا کیا توان کے سوا کوئی اور ابدال جانتا ہے کیونکہ یہ لوگ ہیں جن پر پھر چلائے گئے تو انہوں نے استقامت اختیار کی اور ان کی جمعیت باطنی بحال رہی (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 328 تا330)