تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 16
16 ہزار تھے اور آپ کے صحابہ 319 تھے۔(صحیح مسلم کتاب الجہاد والسیر باب الامداد بالملائكة في غزوہ بدر ) مسند احمد بن حنبل میں حضرت ابن عباس سے اہل بدر کی تعداد 313 مروی ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد نمبر اول صفحه : 248) حضرت عبداللہ بن عمر و سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ بدر کے دن 315 اصحاب کے ساتھ نکلے۔حضرت ابوایوب انصاری سے روایت ہے کہ جب ہم مدینہ سے نکل کر ایک دو یوم کی مسافت طے کر چکے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردم شماری کا حکم دیا جب تعداد شمار کی گئی تو ہم ۳۱۳ تھے یہ سن کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد کی۔(دلائل النبو لیبتی ابواب مغازی رسول اللہ باب ذکر عد داصحاب رسول اللہ جلد نمبر 3 صفحہ 37) اسی طرح بیہقی نے دلائل النبوۃ میں ایک روایت ہے اہل بدر کی تعداد 313، اور 314 بیان کی ہے۔دلائل النبوة جلد 3 صفحہ 40 مطبوعہ بیروت 1985ء) طبرانی نے بھی حضرت ابوایوب انصاری سے ایک طویل روایت بیان کی ہے جس میں اصحاب بدر کی تعداد 313 لکھی ہے۔حضرت امام ابن سیرین بیان کرتے ہیں: ( معجم الکبیر طبرانی جلد نمبر 4 صفحہ 175) ترجمہ اہل بدر کی تعداد تین سو تیرہ یا تین سو چودہ تھی۔ابن اسحاق کے نزدیک بشمول آنحضرت علی یہ تعداد 314 ہے۔جن میں 83 مہاجرین، 1 6 قبیلہ اوس (ابن ہشام من حضر بدراً من المسلمین جلد نمبر 1 صفحه 270) سے اور 170 خزر جی تھے۔علامہ ابن حجر شارح بخاری نے اصحاب بدر کی تعداد کے بارے میں مختلف اقوال درج کئے ہیں۔(فتح الباری جلد نمبر 7 صفحہ: 2920) ان سب روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب بدر کی تعداد 313 ہی تھی۔0000000