تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 322
322 صاحب ایڈووکیٹ ( مدفون چک ۳۸ ضلع سرگودھا)۔میاں نور محمد صاحب کے پوتے ہیں۔چوہدری عبدالمجید صاحب مرحوم ( مدفون غوث گڑھ)۔محترمہ رقیہ بیگم مرحومہ اہلیہ مکرم عبد اللطیف صاحب ( مدفون چک ۳۸ ضلع سرگودھا) ماخذ: (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۲) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحه ۳۵۳-۳۵۲ (۳) انٹرویو مکرم چوہدری عبد القدیر صاحب نمبر چک ۳۸ جنوبی سرگودھا جو کرم ریاض محمود باجوہ صاحب مربی سلسله دفتر شعبه تاریخ احمدیت نے 21 ستمبر 2007ء کولیا۔☆ ۳۰۵۔حضرت مستری اسلام احمد صاحب۔بھیرہ ولادت : ۱۸۵۰ء۔بیعت : ۱۸۹۲ء۔وفات : ۱۹۱۹ء تعارف: حضرت مستری اسلام احمد رضی اللہ عنہ بھیرہ سے تعلق رکھتے تھے آپ کا نام اسلام دین تھا۔مگر سید نا حضرت مسیح موعود نے اسلام احمد سے تبدیل کر دیا۔آپ کی ولادت ۱۸۵۰ء میں ہوئی۔حضرت حکیم نورالدین رضی اللہ عنہ (خلیفہ اسیح الاوّل) کے ہمسایہ تھے۔اکثر قادیان جاتے تھے۔ایک مرتبہ حضور نے مجلس عرفان میں دوستوں کو تقویٰ کی تاکید فرمائی تو مکرم اسلام احمد صاحب نے عرض کیا حضور ! تقویٰ کی تشریح فرما دیں۔حضور نے فرمایا۔”دیکھو انسان جب جنگل میں سے گزرتا ہے تو اپنے جسم اور کپڑوں کو جھاڑیوں سے بچا کر گزرتا ہے۔اسی طرح ہر خراب بات سے بچنا تقوی ہے۔بیعت : تاریخ بھیرہ کے مطابق آپ کی بیعت سال ۱۸۹۲ ء کی ہے۔وفات : آپ نے بھیرہ میں ۱۹۱۹ء میں وفات پائی۔نوٹ : آپ کے تفصیلی سوانح حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : تاریخ احمدیت بھیرہ۔☆ ۳۰۶۔حضرت حسینی خاں صاحب۔الہ آباد بیعت: ابتدائی ایام میں تعارف و بیعت : حضرت حسینی خاں رضی اللہ عنہ الہ آباد کے رہنے والے تھے۔ضمیمہ انجام آتھم میں ۳۱۳ اصحاب صدق وصفا میں آپ کا نام حضرت اقدس نے درج فرمایا۔