تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 284
284 کھلانے کے بعد رات گئے جانوروں کو بچی ہوئی روٹی کے ٹکڑے کھلاتے۔کتاب محبۂ حق کا پہلا ایڈیشن ختم ہو گیا تو دوبارہ اپنی گرہ سے طبع کروا کر حضرت اقدس کی خدمت میں پیش کر دیا۔وفات: آپ کی وفات ۱۹۱۲ء میں ہوئی۔اولاد : ان کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی۔ایک بیٹی سردار بی بی کی نواسی قریشی احمد شفیع صاحب ( میاں محمد شفیع یکے از ۳۱۳ کے بیٹے تھے ) کی اہلیہ تھیں۔نوٹ: آپ کے مزید تفصیلی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ: (۱) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۲ (۲) سیرت حضرت مسیح موعود صفحه ۳۵۵ (۳) حیات احمد جلد دوم (۱۸۸۹ء ۱۸۹۲ء) (۴) تاریخ احمدیت بھیرہ (۵) انٹرویو مکرم اسمعیل عبدالماجد صاحب ( نبیرہ حضرت میاں محمد شفیع) ۲۵۳۔حضرت میاں خادم حسین صاحب۔بھیرہ ولادت : ۱۸۷۲ء۔بیعت : ۱۸۹۲ء۔وفات : ۱۹۳۵ء تعارف و بیعت: حضرت میاں خادم حسین رضی اللہ عنہ بھیرہ کے رہنے والے تھے۔آپ کی ولادت سال ۱۸۷۲ء کو ہوئی۔آپ فارسی زبان کے عالم تھے۔تاریخ احمدیت بھیرہ کے مطابق ۱۸۹۳ء میں بیعت کی۔افغان قونصل خانہ میں میر منشی تھے۔لیکن امیر امان اللہ خان کے اعلان خود مختاری پر قونصل خانہ افغان کا دفتر ختم ہو گیا اور آپ واپس بھیرہ آکر سکول ماسٹر بنے۔مختلف مقامات پر ٹیچر کے طور پر کام کیا۔محققانہ طبیعت پائی تھی۔تحقیقات واقعات کربلا آپ کی مشہور کتاب ہے۔شیعہ مذہب کے بارے میں آپ کے متعدد مضامین اور مقالات شائع ہوئے اور تر دید اہل تشیع کے بارہ میں کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔آپ جماعت بھیرہ کے جنرل سیکرٹری رہے۔حضرت مولوی دلپذیر بھیروی نے حضرت منشی خادم حسین کی وفات پر مرثیہ لکھا۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں ذکر فرمایا ہے۔حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے حضرت اقدس کے معاصر علماء میں تذکرہ کیا ہے جنہوں نے حضرت اقدس کی بیعت کی۔نوٹ: آپ کے مزید تفصیلی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) تحفہ قیصر یہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۲) تاریخ احمدیت بھیرہ صفحہ ۷۰ تا ۷۲ (۳) صداقت حضرت مسیح موعود تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۶۴ء۔