تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 283 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 283

283 رہ کر وفات پانے کا ذکر ہے۔اس کے بعد قریشی محمد شفیع کی ولادت ہوئی۔سب اوورسیئر کے طور پر۔۔۔کالا باغ ، بھکر ہمندری نمل ڈیم، میانوالی اور لائکپورمحکمہ انہار میں ملازمت رہی۔بیعت : آپ نے ۱۸۹۴ء میں بیعت کی۔حضرت خلیفہ اسیح الاول نے ایک مرتبہ سے کہا کہ میں نے ایک مرشد کیا ہے اور حضرت مسیح موعود کا ذکر کیا کہ حضور زمانہ کہ امام ہیں۔اس پر آپ نے بھی بیعت کر لی۔اولاد: آپ کے تین بیٹے تھے۔(۱) قریشی مشتاق احمد صاحب جن کی اولاد کراچی میں ہے۔ان کے ایک بیٹے اخلاق احمد قریشی ہالینڈ میں ہیں۔(۲) قریشی غلام احمد صاحب سکھر سے محکمہ انہار میں لینڈ ریکیمیشن آفیسر (L۔R۔O) ریٹائر ڈ ہوئے اور بعد میں مختار عام صدر انجمن احمدیہ کی حیثیت سے ڈیوٹی دیتے رہے اور دوران ڈیوٹی دفتر میں حرکت قلب بند ہونے سے وفات ہوئی۔(آپ کے خسر حضرت حافظ عبدالعلی صاحب ایڈووکیٹ آف اور حمہ یکے از ۱۳۱۳ امیر ضلع سرگودھا کی بیٹی تھیں ) مکرم اسمعیل عبدالله موحوم اور HBLلالیاں ،مکرم اسمعیل عبدالماجد صاحب ولد قریشی غلام احمد صاحب وائس پریذیڈنٹ (ر) مسلم کمرشل بینک انہی کے پوتے ربوہ میں ہیں۔(۳) تیسرے بیٹے قریشی احمد شفیع صاحب میانوالی مین بازار میں تاجر رہے ہیں۔۱۹۷۴ء میں مخالفین نے زخمی کیا۔آپ میانوالی کے صدر جماعت احمد یہ رہے۔جن کے بیٹے صلاح الدین صاحب اور عنایت الدین اور نعیم الدین تھے۔وفات: آپ کی وفات ۱۲ نومبر ۱۹۵۸ء کو ہوئی۔آپ کا وصیت نمبر ۵۲۷۵ ہے آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں قطعہ نمبر ۹ حصہ نمبر ۱۴ میں ہوئی۔حضرت میاں محمد شفیع صاحب کی اہلیہ حضرت سردار بی بی بھی حضرت اقدس کے رفقاء میں سے تھیں جو وفات کے بعد بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہیں۔ماخذ : (۱) انجام آتھم ، روحانی خزائن جلدا (۲) مرقاۃ الیقین فی حیات نورالدین (۳) حیات نور (۴) تاریخ احمدیت بھیرہ (۵) انٹر ویو مکرم اسمعیل عبدالماجد صاحب ربوہ ( نبیرہ حضرت قریشی میاں محمد شفیع بھیرہ) ☆ ۲۵۲۔حضرت میاں نجم الدین صاحب بھیرہ ولادت : ۱۸۶۴ء۔بیعت ۴ را گست ۱۸۹۱ء۔وفات ۱۹۱۲ء تعارف: حضرت میاں نجم الدین رضی اللہ عنہ حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کے دوست اور قریبی رشتہ دار تھے۔حضرت میاں محمد شفیع صاحب ( یکے از ۳۱۳) کے حقیقی چاتھے۔بیعت : حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے ذریعہ احمدیت کا تعارف ہوا اور ۴ راگست ۱۸۹۱ء کو بیعت کی۔دینی خدمات: لنگر خانه ( دارالضیافت) کے مہتمم رہے۔حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی لکھتے ہیں کہ آپ بڑے مخلص اور مجتہدانہ طبیعت کے مالک اور جفاکش تھے۔حضرت مسیح موعود کی محبت میں سرشار تھے۔مہمانوں کو کھانا