تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 282
282 ☆ ۲۵۰۔حضرت میاں عالم دین صاحب۔بھیرہ ولادت : ۱۸۶۰ء۔بیعت : ۷/فروری ۱۸۹۲ء۔وفات: ۱۹۱۱ء تعارف: حضرت میاں عالم دین رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام حاجی احمد یار تھا حضرت نجم الدین صاحب ( یکے از ۳۱۳) آپ کے بھائی تھے۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے قریبی رشتہ دار تھے۔قرآن مجید کے عاشق تھے۔ہر وقت قرآن کریم پاس رکھتے تھے۔ذراسی بھی فرصت ملنے پر تلاوت کرنے لگ جاتے۔بیعت : آپ کی بیعت ۷ فروری ۱۸۹۲ء کی ہے۔رجسٹر بیعت میں ۳۳۵ نمبر پر آپ کا نام درج ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے تحفہ قیصریہ میں آپ کے جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں شامل ہونے کا ذکر فرمایا ہے۔اولاد : آپ کی ایک لڑکی تھی ( جو معذور ہونے کی وجہ سے قادیان نہ جاسکتی تھی اس لڑکی کی بیعت حضرت اقدس کی اجازت سے حضرت میاں عالم دین صاحب نے اپنے ہاتھ پر لی تھی۔وفات : آپ کی وفات ۱۹۱۱ء کو ہوئی۔نوٹ: آپ کے مزید تفصیلی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۲) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۵۹ (۳) " بھیرہ کی تاریخ احمدیت صفحہ ۶۵۔☆ ۲۵۱۔حضرت میاں محمد شفیع صاحب بھیرہ ولادت : ۱۸۷۸ء۔بیعت : ۱۸۹۲ء۔وفات: ۱۹۵۷ء تعارف : حضرت میاں محمد شفیع رضی اللہ عنہ بھیرہ کے رہنے والے تھے والد صاحب کا نام قریشی کامل دین تھا۔حضرت مولانا حکیم نورالدین (خلیفہ مسیح الاول) کے بھانجے تھے اور آپ کی حقیقی ہمشیرہ امام بی بی کے بیٹے تھے۔محلہ معماران بھیرہ میں رہائش تھی۔حضرت مولانا حکیم نورالدین (خلیفہ اسی الاول) کے درس میں شامل ہوا کرتے تھے۔آپ کے ایک بھائی کی بیماری اور وفات کا واقعہ حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل نے اپنی خود نوشت مرقاۃ الیقین میں درج فرمایا ہے اور حیات نور میں بھی اس کا ذکر ہے۔اسی تذکرہ میں ایک اور بھائی کی ولادت اور بعارضہ پیچش بیمار