تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 268 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 268

268 اوجلوی پٹواری سیکھواں ( یکے از ۳۱۳) آپ کے تایا تھے۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی کھانے کا شرف حاصل ہوا۔(نوٹ) آپ کے مزید سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) لا ہور تاریخ احمدیت صفحه ۱۸۹ ☆ ۲۳۵۔حضرت میاں خدا بخش صاحب۔بٹالہ بیعت: یکم مئی ۱۸۸۹ء تعارف و بیعت : بالہ میں اس نام کے کسی بزرگ کا ذکر نہیں ملتا البتہ حضرت اقدس کی بیعت کے ریکارڈ میں نمبر 9 پر مولوی خدا بخش جالندھری کا نام ہے آپ کی بیعت یکم مئی ۱۸۸۹ء کی ہے۔حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی ( یکے از ۳۱۳) جن ایام میں ابتلاء اور امتحان کے دور میں تھے اور قادیان سے ان کے والد صاحب آپ کو دوسری مرتبہ لے گئے تھے اور اس پر ایک عرصہ گزر گیا تو قادیان کے بزرگوں اور دوستوں نے آپ کی خیریت معلوم کرنے کے لئے دریافت حال کی غرض سے حضرت بھائی جی کی تلاش میں آپ کو بھیجا۔طویل اور سخت سفروں کی تکالیف برداشت کر کے ایک عرصہ کے بعد حضرت اقدس کے پاس واپس آئے تھے اور حضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی رضی اللہ عنہ کے متعلق صرف اتنی خبر پا کر کہ عبدالرحمن زندہ ہے اور دینِ حق پر قائم ہے تصدیق لے کر قادیان گئے۔حضرت میاں صاحب عمر رسیدہ بزرگ تھے۔اپنے اندر تبلیغ کا ایک جوش رکھتے تھے اور عموماً سیا حانہ زندگی کے عادی اور واعظ بھی تھے۔حضرت ماسٹر عبدالرحمن جالندھری کے قبول حق میں ان کی مساعی کا دخل تھا۔نوٹ: آپ کے مزید سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ: (۱) رجسٹر بیعت از تاریخ احمدیت جلد اص ۳۴۷ (۲) سوانح حضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی ص۹۴-۹۷ ۲۳۶۔حضرت منشی حبیب الرحمن صاحب حاجی پور کپور تھلہ ولادت : ۱۸۷۰ء۔بیعت: مارچ ۱۸۹۱ء۔وفات: یکم دسمبر ۱۹۳۰ء تعارف: حضرت منشی حبیب الرحمن رضی اللہ عنہ میرٹھ اتر پردیش کے ایک قصبہ سراوہ کے رہنے والے تھے۔آپ کی