تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 267
267 وفات : آپ کی وفات ۹ نومبر ۱۹۳۶ء کو ہوئی۔آپ کی وصیت نمبر ۴۳۸۵ ہے۔آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان میں ہوئی۔اولاد: آپ کے بیٹے ڈاکٹر عطاء اللہ بٹ پر نسپل طبیہ کالج علی گڑھ تھے۔ماخذ: (۱) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۲) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۳۰۔۳۱ (۴) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۶۱ (۵) تاریخ احمدیت جلد هشتم صفحه ۳۲۳ (۶) روزنامه الفضل ۱۲/ نومبر ۱۹۳۶ء۔☆ ۲۳۳۔حضرت منشی محمد دین صاحب۔سیالکوٹ بیعت : ۱۸۹۱ء تعارف و بیعت : حضرت منشی محمد دین رضی اللہ عنہ سیالکوٹ کے رہنے والے تھے۔آپ اپیل نولیس تھے۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی تھی۔آپ نے ۱۸۹۱ء کے جلسہ سالانہ میں شرکت کی تھی۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آسمانی فیصلہ، ازالہ اوہام ، آئینہ کمالات اسلام ، کتاب البریہ اور سراج منیر میں اپنے مخلصین اور جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں اور ڈائمنڈ جوبلی میں اور پُرامن جماعت میں ذکر کیا ہے۔حضور نے حقیقۃ الوحی میں اپنی ایک پیشگوئی کے پورا ہونے کے متعلق حضرت منشی محمد دین صاحب کا تصدیقی مکتوب بھی درج فرمایا ہے۔نوٹ: آپ کے مزید سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۲ (۲) فتح اسلام روحانی خزائن جلد ۳ (۳) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳(۵) سراج منیر روحانی خزائن جلد۱۲ (۶) حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲۔۲۳۴۔حضرت منشی عبدالمجید صاحب۔اوجله گورداسپور بیعت : ابتدائی زمانہ میں تعارف و بیعت: حضرت منشی عبدالمجید رضی اللہ عنہ او له ضلع گور اسپور سے تعلق رکھتے تھے۔حضرت منشی عبدالعزیز