تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 263 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 263

263 وفات : آپ کو شوگر کی تکلیف تھی۔کھاریاں قیام کے دوران آپ بیمار ہوئے۔۱۵ارستمبر ۱۸۹۸ء کو ۴۲ سال کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔گجرات میں آپ کا جنازہ پڑھا گیا حضرت مسیح موعود نے بھی نماز جنازہ غائب ادا کی۔ماخذ: (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) تحفہ قیصر یہ روحانی خزائن جلد ۱۲ ( ۴ ) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۵) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۵۵ (۶) اصحاب احمد جلد ۱ (۷) مضمون ”حضرت سید خصیلت علی شاہ صاحب مطبوعه ماه نامه تشخیز الاذہان مارچ ۲۰۰۱ء (۸) مضمون ” حضرت سید فصیلت علی شاہ صاحب سیالکوٹی ، مطبوعہ ماہنامہ انصار اللہ ربوہ نومبر ۲۰۰۱ء(۹) مضمون حضرت سید فصیلت علی شاہ صاحب روز نامه الفضل ربوه ۲۴۰ ستمبر ۱۹۹۸ء ☆ ۲۲۷۔حضرت منشی رستم علی صاحب کورٹ انسپکٹر گورداسپور بیعت : ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء۔وفات : ۱۱/جنوری ۱۹۰۹ء تعارف اور حضرت اقدس سے بیعت : حضرت منشی رستم علی رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام شہاب خان صاحب تھا۔آپ مدار ضلع جالندھر کے ایک معزز اور شریف خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ابتدا محکمہ پولیس میں ملازم ہوئے اور ترقی کر کے کورٹ انسپکٹر کے عہدہ تک پہنچے۔براہین احمدیہ کے مطالعہ نے ان کی کایا ہی پلٹ دی اور حضرت اقدس مسیح موعود کے ارادتمندوں میں شامل ہو گئے۔سلسلہ کی ہر مالی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔حضور کو آپ کے نام کا الہام بھی ہوا یعنی ” چوہدری رستم علی آپ کی بیعت ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کو لدھیانہ میں ہوئی جبکہ آپ کا نگڑہ میں متعین تھے۔جہاں پتہ علاقہ قیصری ڈپٹی انسپکٹر پولیس کا نگر تحریر ہے۔رجسٹر بیعت اولی کے مطابق بیعت کا اندراج ، اویں نمبر پر ہے۔تعلق اخلاص: ملازمت کے آخری ایام میں گورداسپور تبدیل ہو کر آگئے اور اکثر حضرت اقدس کی خدمت میں حاضری دیتے رہے۔ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد قادیان میں حضرت اقدس کے مہمانوں کی خدمت کرتے تھے۔حضرت اقدس کے دل میں آپ کے لئے بہت محبت تھی جس کا اظہار آپ کے حضرت اقدس کے نام مکتوبات میں ملتا ہے ۱۸۸۶ء میں حضرت اقدس نے حصول نشان ( جو بعد میں پیشگوئی مصلح موعود کی صورت میں ظاہر ہوا) کے لئے جب سفر کا ارادہ کیا تو اس سفر کی اطلاع بعض چنیدہ دوستوں کو دی جب میں حضرت چوہدری صاحب بھی شامل تھے۔حضور نے آپ کے نام ایک مکتوب محررہ ۱۳ جنوری ۱۸۸۶ء میں تحریر فرمایا۔”اس خاکسار نے حسب ایماء خداوند کریم اس شرط سے سفر کا ارادہ کیا ہے شب وروز تنہا ہی رہے اور کسی کی ملاقات نہ ہو اور خداوند کریم جلشانہ نے اس شہر کا نام بتا دیا ہے جس میں کچھ مدت بطور خلوت رہنا چاہئے اور وہ ہوشیار پور ہے آپ کسی پر