تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 252
252 گئی۔سچے دل سے امام وقت کی شناخت حاصل ہوئی۔الحمد للہ۔سراج الحق جب کبھی حضرت اقدس شیخ عبداللہ دیوانچند کو خط لکھا کرتے تو شناخت کے واسطے عبداللہ دیوانچند دونوں نام لفافے پر لکھ دیتے تھے تا کہ پوسٹ مین کو غلطی نہ لگے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے کتاب البریہ میں پرامن جماعت کے ضمن میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔وفات: آپ کی وفات ۴ ستمبر ۱۹۵۳ء کو ہوئی۔اولاد: آپ کی اولاد میں کیپٹن ڈاکٹرعبدالرحیم صاحب طارق آباد فیصل آبادو ڈاکٹر عبداللطیف صاحب شیخو پورہ اور ڈاکٹر عبدالسلام صاحب ہیں۔ماخذ: (۱) رساله نور القرآن نمبر ۲ صفحه ۴۵۲ - ۲۵۵ روحانی خزائن جلد ۹ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) لاہور تاریخ احمدیت صفحه ۱۵۱ تا ۱۵۳ (۴) ذکر حبیب صفحہ ۲۳۰۔۲۳۱۔☆ ۲۱۲ - حضرت منشی محمد علی صاحب۔لاہور ولادت : ۱۸۵۹ء۔بیعت : ۱۸۹۲ء۔وفات: ۵/ستمبر ۱۹۱۴ء تعارف: حضرت منشی محمد علی رضی اللہ عنہ جلال پور جٹاں ضلع گجرات کے رہنے والے تھے۔آپ کی ولادت ۱۸۵۹ء کی ہے۔آپ صوفی کے نام سے بھی پکارے جاتے تھے۔منشی صاحب ریلوے ایگزامینر آفس میں کلرک تھے۔بیعت : بہت ابتدائی ایام میں بیعت کی۔آپ کا نام جلسہ سالانہ ۱۸۹۲ء کی فہرست مندرجہ آئینہ کمالات اسلام میں ۱۱۲ نمبر پر درج ہے۔گویا آپ ان ایام میں بیعت کر چکے تھے۔اس طرح آپ کی بیعت ۱۸۹۲ء کی ہے۔منارۃ اُسیح پر آپ کا نام کندہ ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آئینہ کمالات اسلام اور کتاب البریہ میں آپ کا جلسہ سالانہ میں شرکت اور پر امن جماعت میں ذکر فرما دیا ہے۔حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے حضرت اقدس کے معاصر علماء میں آپ کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے حضرت اقدس کی بیعت کی۔وفات : آپ کی تاریخ وفات ۷۵ ستمبر ۱۹۱۴ ء ہے۔آپ کا وصیت نمبر ۲۵ ہے۔آپ کا مقبرہ بہشتی مقبرہ یاد گار قادیان میں قطعہ نمبر ۲ حصہ نمبرہ میں ہے۔