تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 246
246 حضرت اقدس کے سفر جہلم میں آپ کی موجودگی: جب حضرت مسیح موعود جہلم تشریف لائے اور جہلم کے ریلوے اسٹیشن پر اُترے تو میاں ابراہیم صاحب حضرت اقدس کے یکے کے آگے خوشی سے اچھلتے تھے اور اپنی پگڑی فضا میں لہراتے اور اوپر پھینک کر پکڑتے اور نعرے لگاتے مرزا غلام احمد کی ہے۔آپ کے ساتھ مولوی برہان الدین جہلمی بھی تھے۔طاعون کے دنوں میں میاں صاحب کے بیٹے عبدالحق کی بُن ران میں گلٹی نکل آئی۔غیر احمدی سیٹھی برادری نے طعنہ دیا کہ تم مرزا صاحب کی سچائی کی دلیل طاعون دیتے ہو۔اس پر میاں صاحب نے کہا اگر میرا بیٹا اس طاعون سے فوت ہو گیا تو مسیح موعود ( نعوذ باللہ ) جھوٹے اور تم بچے اگر اس کے الٹ ہوا تو تمہیں ماننا پڑے گا۔چنانچہ سیٹھی عبدالحق زندہ رہے اور ۸۵ سال کی عمر پائی جبکہ اس وقت ہر طرف موتا موتی تھی۔لیکن لوگوں نے وعدہ کے با وجود نہ مانا۔سیٹھی عبدالحق صاحب اپنے پھوڑے کا نشان دکھایا کرتے تھے۔وفات : آپ کی وفات ۲۴ ستمبر ۱۹۲۶ء کو ہوئی۔بمطابق وصیت حضرت مولوی برہان الدین کے ساتھ جہلم کے قبرستان میں دفن ہیں اور آپ کی اہلیہ محترمہ کرم بی بی بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہیں۔اولاد: آپ کی اولاد میں (۱) سیٹھی خلیل الرحمن صاحب، (۲) سیٹھی عزیز الرحمن صاحب (۳) سیٹھی محمد اسمعیل صاحب، (۴) سیٹھی محمد اسحق صاحب (۵) سیٹھی عبدالحق صاحب اور (۲) سیٹھی فضل حق صاحب تھے۔ان بھائیوں کی اولاد جہلم ، راولپنڈی، اسلام آباد، ربوہ، جرمنی، انگلینڈ، کینیڈا اور امریکہ میں مقیم ہے سیٹھی احسان الحق صاحب ریٹائر ڈسیشن حج اور سیٹھی منظور الحق صاحب بقید حیات ہیں۔آپ کے ایک پوتے سیٹھی مقبول احمد صاحب ولد سیٹھی محمد اسحق صاحب ) ۱۹۷۴ء میں راہ مولیٰ میں شہید کر دیئے گئے سیٹھی خلیل الرحمن کے بیٹے سیٹھی ولی الرحمن صاحب جہلم میں ہیں۔ماخذ : (۱) انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) بیان مکرم منظور الحق سیٹھی ( سیٹھی میڈیکل سٹور گولبازار بوہ ) جون ۲۰۰۵ ء - بروایت ( حضرت کرم بی بی ) دادی جان جو میاں محمد ابراہیم صاحب کی زوجہ ثانی تھیں۔(۳) الفضل ۲۴؎ ستمبر ۱۹۲۶ء (۴) ہفت روزہ لاہور ۱۹۷۴ء۔