تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 245 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 245

245 حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے حضرت اقدس کے معاصر علماء میں آپ کا تذکرہ کیا ہے جنہوں نے حضرت اقدس کی بیعت کر لی۔دینی خدمت: ریٹائر منٹ کے بعد آپ نے حضرت چوہدری حاکم علی کی خواہش پر اپنے آپ کو وقف کر کے چک ۹ پنیا ضلع سرگودھا میں بطور معلم خدمت سلسلہ سرانجام دی۔اولاد: آپ کے بیٹے برکت اللہ صاحب، رحمت اللہ صاحب اور عبدالحمید صاحب تھے۔برکت اللہ صاحب کے بیٹے عطاء اللہ لاہور میں ہیں۔رحمت اللہ صاحب جوانی میں فوت ہو گئے۔ان کی تدفین چک ۹ پنیار ضلع سرگودھا میں ہوئی۔ان کے دو بیٹے نعمت اللہ صاحب اور کرامت اللہ صاحب فیصل آباد میں ہیں۔تیسرے بیٹے عبدالحمید صاحب کی اولاد کرنل مجید احمداور تین بھائی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔آپ کی تین بیٹیاں تھیں ایک بیٹی زینت بیگم کی اولا د ملک حمید اللہ صاحب ڈسکہ سابق امیر ضلع سیالکوٹ اور چار دیگر بیٹے ہیں۔آپ کے ایک نواسہ اور نواسی ( ملک مبارک احمد مرحوم و اہلیہ ملک صاحب) نواب شاہ سندھ میں ہیں۔مکرم عبدالحمید صاحب کی ایک بیٹی مکر مہ امتہ المالک صاحبہ اہلیہ مکرم سردار احمد را نا سیشن حج (منڈی بہاؤالدین ) ٹاؤن شپ لا ہور تھیں۔ماخذ: (۱) انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) رجسٹر روایات صحابہ نمبر ا (۴) صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۶۴ء۔☆ ۲۰۵۔حضرت میاں ابراہیم صاحب پنڈوری۔جہلم بیعت : ابتدائی زمانہ میں۔وفات ۲۴ ستمبر ۱۹۲۶ء تعارف و بیعت: حضرت میاں ابراہیم رضی اللہ عنہ پنڈوری ڈومیلی سوہا وا چکوال روڈ کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام میاں عمر بخش تھا جبکہ سات پشتیں قبل جدا مجد نورالدین در بارا کبری میں آئے تھے جبکہ مدینہ منورہ سے سعد الدین نے افغانستان کی طرف ہجرت کی تھی۔محلہ خواجگان ( جسے اب محلہ سیٹھیاں کہتے ہیں ) میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد صاحب کا گھر جہلم میں چوک اہلحدیث کے نزدیک محلہ خواجگان میں تھا۔اس گھر کا ایک حصہ آپ کی اولاد کے پاس ہے۔نمک، گا چینی مٹی ، اور کچے برتنوں کا کاروبار کرتے تھے۔آپ کی بیعت ابتدائی ایام کی ہے۔آپ اس بات کے قائل تھے کہ یہ زمانہ ظہور امام کا ہے اور تلاش مسیح میں افغانستان چلے گئے وہاں کسی نے بتایا کہ قادیان پنجاب کے گاؤں میں کسی نے دعوی کیا ہے چنانچہ پوچھتے پوچھتے قادیان چلے آئے۔اور حضرت اقدس کی بیعت کر لی۔