تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 241
241 ☆ ۲۰۰۔حضرت منشی میراں بخش صاحب گوجرانوالہ بیعت : ۱۸۹۱ء تعارف و بیعت : حضرت منشی میراں بخش رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام بہادر خان کیروی تھا۔آپ ہیڈ کلرک پولیس گوجرانوالہ تھے۔ایک مجذوب نے منشی صاحب کو خبر دی کہ عیسی جو آنے والا تھا وہ حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی ہی ہیں۔یہ خبر حضرت اقدس کے اظہار دعوی سے کئی سال پیشتر آپ سن چکے تھے۔صد ہا آدمیوں میں شہرت پا چکی تھی۔حضرت منشی صاحب کا ذکر ازالہ اوہام میں مخلصین کی جماعت میں کیا گیا ہے اس لئے آپ کی بیعت ۱۸۹۱ء کی ہے۔آپ نے لیکھرام کی پیشگوئی کے متعلق شروع شروع میں ریاست گوالیار میں خط لکھا۔اس کا جواب حضور کی طرف سے قصیدے کی صورت میں آیا۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے ازالہ اوہام میں آپ کا ذکر اپنے مخلصین میں فرمایا ہے۔آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ سالانہ میں شریک ہونے والوں میں ذکر ہے۔حضرت منشی صاحب کے ذریعہ حضرت مولوی محمد اسمعیل تر گڑی صاحب (المعروف چٹھی مسیح) احمدی ہوئے تھے۔اولاد: آپ کی دختر محترمہ حافظہ بی بی صاحب تھیں۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۴۲ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) روز نامه الفضل اار نومبر ۲۰۰۰ (۴) رجسٹر روایات نمبر ۱۲ روایات حضرت مولوی محمد اسمعیل سنتر گڑی۔☆ ۲۰۱ - حضرت مولوی احمد جان صاحب مدرس گوجرانواله بیعت : ۱۸۹۱ء تعارف و بیعت : حضرت مولوی احمد جان رضی اللہ عنہ جالندھر کے رہنے والے تھے۔آپ لاہور میں بھی مدرس رہے۔حضرت شیخ صاحب دین صاحب ڈھینگرہ ہاؤس گوجرانوالہ کی روایت ہے کہ انہوں نے اپنے استاد حضرت مولوی احمد جان صاحب سے دریافت کیا کہ یہ مرزا صاحب کون ہیں۔جن کی شہر میں ہر جگہ باتیں ہو رہی ہیں۔حضرت مولوی صاحب موصوف نے جواب دیا کہ بیٹا آج دنیا میں قرآن کریم کو جاننے اور سمجھنے والے صرف