تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 235
235 سید فضل شاہ صاحب سے پوچھا ہے وہ بھی اس وقت موجود تھے اور ان کو یہ روایت یاد ہے۔“ وفات : آپ نے ۱۰ جون ۱۹۶۶ء کو وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہیں۔اولاد : آپ کی بیٹی محترمہ زبیدہ بیگم زوجہ کرامت اللہ صاحب ہیں۔آپ کے ایک بیٹے مکرم عبدالحئی صاحب عرب ریاستوں میں مقیم رہے ہیں۔ماخذ : (۱) روزنامه الفضل ۲۲ /اکتوبر ۱۹۹۰ء (۲) تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه ۳۹۸ (۳) سیرت المہدی جلد اوّل۔۱۹۱۔حضرت قاضی چراغ الدین کوٹ قاضی گوجرانوالہ بیعت : ابتدائی زمانہ میں تعارف و بیعت : حضرت قاضی چراغ الدین رضی اللہ عنہ کا تعلق بھی کوٹ قاضی گوجرانوالہ سے تھا۔آپ حضرت قاضی سراج الدین ( یکے از ۳۱۳) کے بھائی تھے۔آپ حضرت قاضی ضیاء الدین رضی اللہ عنہ کی تبلیغ سے حلقہ بگوش احمدیت ہوئے تھے۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔نوٹ: آپ کے مزید سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن ۱۱ (۲) اصحاب احمد جلد ششم صفحه ۲۱۔۱۹۲۔حضرت میاں فضل الدین صاحب قاضی کوٹ بیعت : ابتدائی زمانہ میں تعارف و بیعت : حضرت میاں فضل الدین رضی اللہ عنہ قاضی کوٹ بھی حضرت قاضی ضیاء الدین کے ذریعہ احمدیت سے متعارف ہوئے اور بیعت کر کے داخل سلسلہ احمد یہ ہوئے۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔نوٹ: آپ کے مزید سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) اصحاب احمد جلد ششم ۱۹۳۔حضرت میاں علم الدین صاحب کو ٹلہ فقیر۔جہلم بیعت : ابتدائی زمانہ میں تعارف و بیعت : حضرت میاں علم الدین رضی اللہ عنہ کو ٹلہ فقیر ضلع جہلم ایک پارسا بزرگ تھے۔آپ حضرت قطب الدین صاحب (۱۸۶) ( یکے از ۳۱۳) کے چچا تھے۔حضرت میاں شرف الدین صاحب کے بھائی تھے۔آپ ایک موحد آدمی تھے جب حضرت میاں حافظ قطب الدین امام وقت کی تلاش میں نکلنے لگے تو آپ نے فرمایا