تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 231
231 بیعت : آپ ملازمت کے سلسلہ میں بھیرہ ریلوے اسٹیشن پر تھے جب حضرت اقدس کے دعوئی مہدویت کا علم ہوا تو ۱۸۹۱ء۔۱۸۹۲ء میں بیعت کا خط لکھا اور اپنے آپ کو حضور کے سپرد کرتے ہوئے لکھا کہ میرے پاس تلوار ہے اور ڈھال ہے جہاں حضور حکم کریں حاضر ہو جاؤں۔اس خط کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ اپنی جگہ سے تمام دنیا میں حق کی آواز پہنچا ئیں۔درود شریف ، لاحول کثرت سے پڑھیں۔پانچوں نمازیں پڑھیں اور تہجد پڑھیں۔یہی جہاد ہے۔دینی خدمات : ۱۹۰۳ء میں حضرت اقدس جب مولوی کرم دین بھیں والے مقدمہ میں جہلم آئے تو آپ حضور کی خدمت میں دن رات حاضر رہے۔ان دنوں آپ پولیس لائن میں تھے اور تین دن رخصت لے کر حضور کی خدمت میں رہے۔سیرت المہدی حصہ سوم میں ہے کہ: ” جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی گاڑی جہلم کے اسٹیشن پر پہنچی تو اسٹیشن پر لوگوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ بس جہاں تک نظر جاتی تھی آدمی ہی آدمی نظر آتے تھے اور مرد، عورت، بچے ، جوان، بوڑھے پھر ہندو مسلمان ، سکھ، عیسائی، یورپین ہر مذہب کے لوگ موجود تھے اس قدر گھمسان تھا کہ پولیس اور سٹیشن کا عمله با وجود قبل از وقت خاص انتظام کرنے کے قطعا کوئی انتظام نہ رکھ سکتے تھے اور اس بات کا سخت اندیشہ پیدا ہو گیا کہ کوئی شخص ریل کے نیچے آکرکٹ نہ جائے یا لوگوں کے ہجوم میں دب کر کوئی بچہ یا عورت یا کمزور آدمی ہلاک نہ ہو جائے لوگوں کا ہجوم صرف اسٹیشن تک ہی محدود نہ تھا بلکہ ٹیشن سے باہر بھی دور دراز تک ایک سا ہجوم چلا جاتا تھا اور جس جگہ کسی کو موقع ملتا وہ وہاں کھڑا ہو جاتا حتی کہ مکانوں کی چھتوں اور درختوں کی شاخوں پر لوگ اس طرح چڑھے بیٹھے تھے کہ چھتوں اور درختوں کے گرنے کا اندیشہ ہو گیا تھا۔میں نے دیکھا کہ ایک انگریز اور لیڈی فوٹو کا کیمرا ہاتھ میں لئے ہجوم میں گھرے ہوئے تھے کہ کوئی موقع ملے تو حضرت صاحب کا فوٹو لے لیں مگر کوئی موقع نہ ملتا تھا اور میں نے سنا تھا کہ وہ پچھلے کئی سٹیشنوں سے فوٹو کی کوشش کرتے چلے آ رہے تھے مگر کوئی موقع نہیں ملا۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ریل سے اتر کر اس کوٹھی کی طرف روانہ ہوئے جو سردار ہری سنگھ رئیس اعظم جہلم نے آپ کے قیام کے لئے پیش کی تھی تو راستہ میں تمام لوگ ہی لوگ تھے اور آپ کی گاڑی بصر مشکل کوٹھی تک پہنچی۔جب دوسرے دن آپ عدالت میں تشریف لے گئے تو مجسٹریٹ ڈپٹی سنسار چند آپ کی تعظیم کے لئے سروقد کھڑا ہو گیا اور اس وقت وہاں لوگوں کا اس قدر ہجوم تھا کہ جگہ نہیں ملتی تھی بعض لوگ عدالت کے کمرے میں الماریوں کے او پر مجسٹریٹ کے چبوترے پر چڑھے ہوئے تھے۔جہلم میں اتنے لوگوں نے حضرت صاحب کی بیعت کی کہ ہمارے وہم وخیال میں بھی نہ تھا۔“ حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : ۷ مارچ ۱۹۰۷ء کو حضور علیہ السلام کو الہام ہوا چھپیں دن یا یہ کہ چھپیں دن (سیرۃ المہدی حصہ سوم صفحہ ۷۰،۶۹ )