تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 200
200 کو قادیان میں داخل ہوا۔مئی ۱۹۲۷ء کو مدرستہ البنات میں لگا دیا گیا اور ۱۹۳۰ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں تبدیل کیا گیا۔یکم اپریل ۱۹۳۷ء سے پنشنر بن گیا۔( رجسٹر وایات صحابہ جلد ہفتم) آپ کی دو مختصر تالیفات بھی ہیں۔روئیداد مباحثہ دربارہ حیات و وفات مسیح علیہ السلام جو ماریشس کا مشہور مباحثہ ہے اور ایک کتابچہ لا الہ الا اللہ آپ نہایت خوش خلق، شیریں بیان اور تحمل مزاج بزرگ تھے۔حافظ قرآن تھے اور آپ کی تلاوت سے پرانے اصحاب کے بیان کے مطابق حضرت مولانا عبد الکریم سیالکوٹی کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔وفات: ہجرت کے بعد لاہور میں اکتوبر ۱۹۴۷ء میں وفات پائی اور میانی صاحب کے قبرستان میں دفن ہوئے بعد ازاں دارالہجرت ربوہ کے بہشتی مقبرہ میں تابوت لے جا کر دفن کیا گیا۔رض شادی و اولاد: ۱۹۰۶ ء حضرت مسیح موعود نے آپ کی شادی حضرت منشی شادی خان کی بیٹی حضرت عائشہ بیگم صاحبہ ( بیوہ حضرت مولانا عبدالکریم سیالکوٹی ) کرائی۔آپ کی اہلیہ بعد میں نومبر ۱۹۱۷ء میں ماریشس پہنچیں اور وہاں خدمات سلسلہ کی توفیق پائی۔حضرت صوفی صاحب کی اہلیہ کا انتقال ۱۶ جنوری ۱۹۲۸ء میں قادیان میں ہوا اور بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی۔جن سے ایک بیٹی اور پانچ بیٹے پیدا ہوئے۔(۱) مکرمہ آمنہ بیگم صاحبہ ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔(۲) ڈاکٹر احمد صاحب مرحوم آف کراچی (جن کی بیٹی مکرمہ غزالہ مسعود مکرم مسعود احمد طاہر، طاہر فوٹوسٹوڈیور بوہ حال کینبرا آسٹریلیا کی زوجہ ہیں ) (۳) صوفی محمد صاحب۔(۴) صوفی محمود صاحب - (۵) صوفی حامد صاحب ( جن کی بیٹی محترمہ سلمی جاوید صاحبہ اہلیہ مکرم ملک منور احمد جاوید نائب نا ظر ضیافت ربوہ ہیں ) (۶) ایک بیٹا بچپن میں وفات پا گیا۔آپ کی دوسری شادی ۱۴ مارچ ۱۹۲۸ء کو استانی فاطمہ بیگم کے ساتھ ہوئی جس سے چار بچے پیدا ہوئے۔(۱) مکرمہ نسیمہ بیگم صاحبه (۲) مکر مہ نعیمہ بیگم صاحبہ (۳) وسیمہ صاحبہ بچپن میں وفات۔(۴) صوفی حمید احمد صاحب آف کراچی۔( ان کی تین بیٹیاں ہیں مکرمہ آمنہ صاحبہ، مکرمہ نسیمہ صاحبہ مکرمہ نعیمہ صاحبہ ) ماخذ: (۱) لاہور تاریخ احمدیت صفحه ۱۹۳ ۱۹۴ (۲) انٹرویو مکرم ملک منور احمد جاوید صاحب (۳) مجاہد ماریشس مؤلفہ مکرم احمد طاہر مرزا ( غیر مطبوعہ) (۴) (رجسٹروایات صحابہ جلد ہفتم) (۵) ( الحکم قادیان ۲۱ ستمبر ۱۴ راکتو بر۱۹۳۴ء) ☆ ۱۵۰۔مولوی محمد فضل صاحب چنگا۔گوجر خاں بیعت: ابتدائی زمانہ میں۔وفات : جون ۱۹۳۸ء تعارف و بیعت مولوی محمد فضل صاحب چنگا بنگیال گوجر خان ضلع راولپنڈی سے تعلق تھا۔ابتدائی زمانہ میں