تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 199 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 199

199 ہوئے۔آپ کے والد کا نام دل محمد صاحب تھا۔آپ کی ولادت ۱۸۸۱ء کی ہے۔آپ کا گاؤں مچھرالہ موجودہ ضلع شیخو پورہ میں واقع ہے۔آپ ابھی بچہ ہی تھے کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور حضرت چوہدری رستم علی کورٹ انسپکٹر کی کفالت میں آگئے اور انہی کے خرچ پر قادیان میں تعلیم پائی۔خود نوشت سوانح کے مطابق حضرت چوہدری صاحب کے ہمراہ دسمبر ۱۸۹۳ء کا جلسہ قادیان دیکھا اور مئی ۱۸۹۵ء میں حضرت اقدس کی بیعت کی سعادت حاصل کی۔آپ بیان کرتے ہیں کہ : ۱۸۹۴ء کو چاند گرہن اور سورج گرہن ایک ہی رمضان کی ۲۸ کو سورج گرہن ہوا تھا۔وہ میں نے اپنی آنکھ سے منٹگمری میں دیکھا۔چاند گرہن مغرب کی نماز کے بعد ہی لگ گیا تھا۔اس وقت یہی تذکرہ تھا کہ یہ چاند گرہن مہدی کا نشان حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے۔“ التحام قادیان ۲۱ ستمبر ۱۴ اکتوبر ۱۹۳۴ء) ابتدائی تعلیم مدرسہ تعلیم الاسلام سے ہی حاصل کی۔بعدہ ایم۔اے۔اوکالج علیگڑھ سے تعلیم حاصل کی اور ۱۹۱۲ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا۔خدمات سلسلہ : ۱۹۰۶ء میں جب حضرت اقدس مسیح موعود نے وقف زندگی کی تحریک کی تو آپ نے اپنا نام پیش کر دیا۔۱۹۰۷ء میں آپ اسٹنٹ ایڈیٹر ریویو مقرر کئے گئے اور پھر مدرسہ احمدیہ قادیان میں خدمات کی توفیق پائی۔مجاہد ماریشس : آپکا بیان ہے: بی۔اے کا امتحان پاس (کرنے) کے بعد میں نے خلیفہ اول سے پوچھا کہ قرآن شریف یاد کروں کہ ایم۔اے کا امتحان دوں۔فرمایا قرآن یاد کروایم۔اے کیا ہوتا۔سو میں نے چھ ماہ میں قرآن شریف یاد کیا اور جب میں نے خلیفہ اول کو لکھا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عہد کیا تھا۔کہ میں اپنی زندگی دین کیلئے وقف کرتا ہوں۔اس لئے مجھے آپ جہاں چاہیں بھیج دیں۔آپ چونکہ ان کے خلیفہ برحق ہیں اس لئے مجھے تبلیغ کے لئے بھیج دیں۔آپ کے ارشاد کے ماتحت میں نے پاسپورٹ کی درخواست دی۔نیروبی والوں نے عربی انگریزی دان قرآن پڑھانے والے کے متعلق درخواست دی تھی۔حضور خلیفہ اول نے فرمایا تھا کہ ایسٹ افریقہ کینیا کالونی کے لئے پاسپورٹ کی درخواست دیدو۔ایسٹ افریقہ کیلئے میرا پاسپورٹ منظور نہ ہوا۔کیونکہ لڑائی شروع ہوگئی تھی )۔تب میں نے ماریشس کیلئے درخواست دی جو منظور ہوگئی اور حضرت خلیفہ اسیح الاول کا وصال ہو گیا۔دسمبر ۱۹۱۴ء میں میری منظوری پاسپورٹ کی آگئی اور ۲۰ فروری ۱۹۱۵ء میں میں یہاں قادیان سے روانہ ہوا۔۱۴ مارچ ۱۹۱۵ء کو کولمبو پہنچا۔میں وہاں پونے تین ماہ رہا۔وہاں احمد یہ ایسوسی ایشن کولمبو قائم کی۔سلیون آئی لینڈ کولمبو جماعت کا مرکز بن گیا اور میں سب سے پہلا آنریری پریذیڈنٹ مقرر ہوا۔۶ جون ۱۹۱۵ء کو روانہ ہوا اور ۱۵ جون ۱۹۱۵ء کو ماریشس پہونچا۔پورٹ لوئی بندرگاہ پر اترا۔روزبل میں مقیم ہوا۔روزہل کے مقدمہ کی ستر نشستیں پونے دو سال میں ختم ہوئیں۔سارے جزیرہ میں احمدیت کی دھاک بیٹھ گئی۔ماریشس میں پونے چار لاکھ آبادی ہے۔احمدی مرد و زن صغیر و کبیر چھ سات سو کے درمیان ہیں۔بارہ سال وہاں گزارے۔۱۹۲۶ء میں دو ہفتے کیلئے مڈغاسکر گیا۔وہاں تبلیغ کیلئے وسیع میدان ہے۔۳ یا ۴ مارچ ۱۹۲۷ء کو ماریشس سے چلا اور ۱۲ یا ۱۳ کو بمبئی پہنچا۔۶ امارچ