تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 191
191 حضرت مولوی فضل الہی صاحب بھیروی کے والد ماجد کا نام میاں کرم دین ( میاں کرم الہی ) تھا۔آپ خاندان مغلیہ میں سے تھے۔آپ کی ولادت ۱۸۷۵ء میں ہوئی۔۱۸۵۷ء کے غدر میں دتی چھوڑ کر پنجاب آ گئے تھے اور احمد آباد میں دریائے جہلم کے دوسرے کنارے ( بھیرہ کے شمال مغربی جانب ) آباد ہوئے اور باقی عمر یاد الہی میں گزاری۔میاں کرم دین (میاں کرم الہی کے ہاں ایک یہی لڑکا ہوا جسے حضرت اقدس کے ابتدائی ( رفقاء) میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔آپ کی بیعت ۹۳۔۱۸۹۲ء کی ہے۔دینی خدمات: آپ نے اور مینٹل کالج لاہور میں تعلیم حاصل کی تعلیم کے بعد سرگودھا میں ٹھیکیداری کا کام شروع کیا تھا جس میں نمایاں کامیابی ہوئی۔اپنے مکان کے ساتھ مسجد احمد یہ بنوائی۔اردگرد کے چکوک میں جماعتیں قائم کیں بعد میں آپ قادیان آگئے اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان آگئے اور لاہور میں مقیم ہوئے۔قادیان میں تعمیرات کے فرائض سرانجام دیئے۔وفات : آپ کی وفات ۲۵ / اگست ۱۹۵۷ء کو بھمر ۸۲ سال ہوئی۔آپ کا وصیت نمبر ۲۱۴۶ ہے آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ قطعہ نمبر ۱۵ میں ہوئی۔اولاد: آپ کے تین بیٹے فضل الرحمن صاحب، عطاء الرحمن صاحب چغتائی جنرل سیکرٹری جماعت احمد یہ ماڈل ٹاؤن اور برکات الرحمن نسیم ہیں۔بیٹیوں میں مکرمہ حمیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی غلام احمد ارشاد صاحب، امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اور امتہ المجید بیگم صاحبہ ہیں۔مکرم عطاء الرحمن چغتائی کے ایک بیٹے مکرم شاہد احمد چغتائی پاکستان ٹیلی ویژن میں پروڈیوسر ہیں۔اور مکرم ماجد احمد چغتائی بیرون ملک ہیں آپ کی ایک بیٹی مکرمہ نعیمہ فردوس صاحب اہلیہ چوہدری محمد سلیم احمد صاحب چرغہ ہاؤس ربوہ ہیں۔ماخذ: (۱) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۲) لاہور تاریخ احمدیت صفحہ ۱۹۵-۱۹۶۔☆ ۱۴۰۔حضرت میاں عبد العلی موضع عبد الرحمن ضلع شاہ پور ولادت : ۱۸۷۴: بیعت : ابتدائی زمانہ تعارف : حضرت میاں عبدالعلی رضی اللہ عنہ ضلع سرگودھا کے ایک گاؤں اور حمہ ( موضع عبد الرحمن سابق ضلع شاہ پور ) کی جٹ رانجھا برادری میں سے تھے۔آپ کے والد صاحب کا نام مولوی نظام الدین صاحب تھا۔(اور اصل متوطن چادہ نزدبھیرہ کے تھے۔پرورش کیلئے اور حمہ میں اپنے ننھیال رانجھا برادری کے پاس آ گئے تھے۔) آپ کی ولادت ۱۲۹۰ھ میں ہوئی۔والدہ بھی حافظ قرآن تھیں اور آپ خود بھی حافظ قرآن تھے۔اور سات سال کی عمر میں قرآن شریف حفظ کر لیا۔ابتدائی تعلیم کے بعد آپ اپنے چھوٹے بھائی حضرت مولوی شیر علی صاحب کے ساتھ گورنمنٹ ہائی