تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 190 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 190

190 ☆ ۱۳۸ - حضرت منشی صادق حسین صاحب مختار۔اٹاوہ بیعت : ۱ارا پریل ۱۸۸۹ء۔وفات:۶ اکتوبر ۱۹۴۹ء تعارف: حضرت منشی صادق حسین رضی اللہ عنہ کے والد صاحب کا نام حکیم وارث علی تھا۔بیعت سے قبل آپ اہل تشیع تھے۔آپ ایک کامیاب وکیل اور پختہ قلم کار تھے۔آپ ایک رسالہ ماہنامہ ”صبح صادق نکالا کرتے تھے۔جس میں آپ کی نگرانی میں ہونے والے ماہانہ مشاعرہ کی روداد چھپتی تھی۔اس مشاعرہ میں داغ دہلوی اور امیر مینائی بھی اپنا کلام پیش کرتے تھے۔بیعت : رجسٹر بیعت میں آپ کی بیعت ۸۰ نمبر پر ہے۔آپ کی بیعت اراپریل ۱۸۸۹ء کی ہے۔علمی خدمات آپ کی پوری زندگی قلمی جہاد میں گزری۔آپ کی تصنیفات میں مندرجہ ذیل کتب شامل ہیں۔صادق کلمات، ثنائی ہفوات، ازالته الشکوک (رد آریہ سماج) الحق دہلی، تصدیق کلام ربانی ( رد آریہ ) مثنوی پیام صادق، تحفتہ الشیعی نمبر نمبر ۲ نمبر ۳ ، سیف الله القہار علی رؤس الاشرار صمصام الحق ( ردشیعہ تحریک ) اٹاوہ میں شیعہ سنی تحریری مباحثہ، بند صادق (منظوم)، کشف الاسرار ( قبرمسیح)۔آپ کے کئی علمی مضامین ریویوار دو تشخیذ الا ذہان اور الحکم میں شائع ہوتے رہے۔آپ کا منظوم کلام بھی سلسلہ کے جرائد میں شائع ہوتارہا۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں آپ کا نام ڈائمنڈ جو بلی کے جلسہ اور پُر امن جماعت میں ذکر کیا ہے۔وفات: آپ کی وفات ۶ را کتو پر ۱۹۴۹ء کو ہوئی۔آپ کی وصیت نمبر ۱۲۰۷ ہے۔ماخذ: (۱) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) رجسٹر بیعت مندرجه تاریخ احمدیت جلد اصفحہ ۳۴۷ (۴) تاریخ احمدیت جلد دهم صفحه ۳ ۸ تا ۸۵ - (۵) الحکم قادیان۔رسالہ ریویو تشخیذ الا ذہان ☆ ۱۳۹ حضرت شیخ مولوی فضل حسین صاحب احمد آبادی۔جہلم ولادت: ۱۸۷۵ء۔بیعت : ۱۸۹۶ء۔وفات : ۲۵ /اگست ۱۹۵۷ء تعارف و بیعت : حضرت شیخ فضل حسین صاحب رضی اللہ عنہ کا اصل نام مولوی فضل الہی صاحب تھا یہ درستی پرائیویٹ سیکرٹری صاحب کے ذریعہ ہوگئی تھی۔(لا ہور تاریخ احمدیت صفحه ۱۹۴)