تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 168 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 168

168 یعنی دو بکریاں ذبح کی جائیں گی کا مصداق قرار دیا۔اور فرمایا: اور یہ پیشگوئی شہید مرحوم مولوی محمد عبد اللطیف اور اُن کے شاگر د عبدالرحمن کے بارے میں ہے کہ جو براہین احمدیہ کے لکھے جانے کے بعد پورے تئیس برس بعد پوری ہوئی۔اب تک لاکھوں کروڑوں انسانوں نے اس پیشگوئی کو میری کتاب براہین احمدیہ کے صفحہ ۵۱۱ میں پڑھا ہوگا۔( تذكرة الشهادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۷۲ ) حضرت اقدس حقیقۃ الوحی میں حضرت مولوی عبدالرحمن کے بارہ میں فرماتے ہیں : اسی طرح شیخ عبدالرحمن کو بھی کاہل میں ذبح کیا گیا اور دم تک نہ مارا اور یہ نہ کہا کہ مجھے چھوڑ دو میں بیعت کو تو ڑتا ہوں۔یہی بچے مذہب اور بچے اسلام کی نشانی ہے کہ جب کسی کو اس کی پوری معرفت حاصل ہو جاتی ہے اور ایمان کی شیرینی دل و جان میں رچ جاتی ہے تو ایسے لوگ اس راہ میں مرنے سے نہیں ڈرتے۔“ (حقیقه روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه نمبر ۳۶۰) کربلا کے خون ناحق سے ہوا یہ آشکار موت بھی ہوتی ہے دنیا میں بجائے زندگی مقتل عشق ہوتا ہے چشمہ آب بقا ابتلائے زندگی اصطفائے زندگی ہے ماخذ : (۱) براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد ۱ (۲) تذکرۃ الشہادتین روحانی خزائن جلد ۲۰ (۳) حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ (۴) حضرت مولوی عبد الرحمن صاحب کا بل مطبوعہ الفضل ۱۳ مئی ۲۰۰۲ (۵) اخبار الحکم ۱۷ ستمبر ۱۹۰۱ء (۱) شیخ عجم (۷) مضمون حضرت مولوی عبدالرحمن خان صاحب مطبوعہ ”انصار اللہ ماہ جولائی ، اگست ۲۰۰۱ء (۸) مسوده سید محمود احمد افغانی بزبان پشتو " تاریخ احمدیت افغانستان (۹) ذکر حبیب(۱۰) چشم دید حالات۔☆ ۱۱۲۔جناب خلیفہ رجب دین صاحب تاجر۔لاہور بیعت : ۱۸۹۲ء اندازاً۔وفات : ۱۹۱۴ء کے بعد تعارف: جناب خلیفہ رجب دین صاحب کا مسکن لاہور تھا۔آپ جماعت اہلحدیث سے تعلق رکھتے تھے اور جناب خواجہ کمال الدین صاحب ( یکے از ۳۱۳) کے خسر تھے۔آپ اپنی شکل و شباہت ، جبہ و دستار اور علمی و دینی قابلیت اور بات چیت وغیرہ سے بڑی اہمیت کے حامل تھے۔ڈپٹی نذیر احمد دہلوی جب لاہور آتے تو جناب خلیفہ صاحب کو ضرور یاد کرتے۔ایک دفعہ ڈپٹی صاحب نے پوچھا خلیفہ جی! میرے ترجمہ قرآن کے متعلق حکیم نورالدین صاحب کی کیا رائے ہے۔خلیفہ صاحب نے کہا وہ کہتے ہیں کہ انسی مُتَوَفِیک کا ترجمہ کرنے میں ڈپٹی صاحب لوگوں سے ڈر گئے ہیں۔ڈپٹی صاحب نے کہا تو کیا میں مسیح کی وفات کا ترجمہ کر کے کفر کا فتویٰ لے لیتا ؟