تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 166 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 166

166 ☆ ۱۰۹۔حضرت منشی تاج محمد خان صاحب۔لودیا نہ ۱۵ جون بیعت : ۱۸۹۱ ء وفات: ۰۷-۱۹۰۶ء تعارف و بیعت : حضرت منشی تاج محمد خان رضی اللہ عنہ لدھیانہ کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد کا نام نجم الدین صاحب تھا۔آپ کا اصل وطن موضع سیر بانڈی ریاست پونچھ متصلہ ریاست کشمیر تھا۔وہاں سے ہجرت کر کے بھوکڑی ضلع لدھیانہ میں مقیم ہو گئے۔رجسٹر بیعت کے مطابق آپ کی بیعت ابتدائی ۱۵ار جون ۱۸۹۱ء کی ہے اور کوائف میں پیشہ وعظ ومولویت تحریر ہے۔لدھیانہ میں آپ میونسپل کمیٹی کے کلرک بھی رہے جیسا کہ حضرت اقدس نے ” آریہ دھرم میں کتاب البریہ میں آپ کے نام ساتھ تحریر فرمایا ہے۔حضرت اقدس نے ازالہ اوہام اور آئینہ کمالات اسلام میں چندہ دہندگان میں آپ کا ذکر فرمایا ہے۔احباب لاہور اور لدھیانہ نے جو خط علمائے وقت کے نام حضرت مسیح موعود سے براہین احمدیہ کے بارے میں ظاہری و باطنی مباحثہ سے تصفیہ کے لئے لکھا تھا آپ اس کے دستخط کنندگان میں شامل تھے۔آپ کے نام کا اندراج اس طرح سے ہے:۔مولوی تاج محمد ساکن بھوکڑی علاقہ لودہیانہ حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت منشی تاج محمد خاں رضی اللہ عنہ کا ذکر حضرت اقدس نے ازالہ اوہام میں اپنے مخلصین میں فرمایا ہے نیز آئینہ کمالات اسلام میں چندہ دہندگان اور کتاب البریہ میں پرامن جماعت کے ضمن میں ذکر فرمایا۔اولاد: آپ کے بیٹے حضرت محمد حسن تاج صاحب ۱۸۹۹ء میں پیدا ہوئے۔حضرت مولوی تاج محمد خان صاحب کی وفات حضور کی زندگی میں ہوئی تھی۔حضور کے ارشاد پر انکے بیٹے کو جماعت لدھیانہ سے قادیان بھجوا دیا گیا جہاں آپ محلہ دارالرحمت میں سکونت پذیر رہے۔ان کی روایات رجسٹر روایات نمبر 7 میں محفوظ ہیں۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۴) ضمیمه انجام آتھم روحانی خزائن جلدا۔(۵) آریہ دھرم (۶) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اول طبع جدید ایڈیشن (۷) رجسٹر روایات نمبرے صفحہ ۳۵۵۔