تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 158
158 ۱۰۰۔حضرت منشی پیر بخش صاحب مرحوم۔۔۔جالندھر بیعت: ۱۸۹۵ء سے قبل۔وفات: ۱۸۹۷ء سے قبل تعارف: حضرت منشی پیر بخش رضی اللہ عنہ جالندھر شہر کے محلہ پوتیاں سو کے رہنے والے تھے۔ارائیں قوم سے تعلق تھا۔ضمیمہ انجام آتھم میں حضور نے انہیں ”مرحوم، تحریر فرمایا ہے۔گویا اس وقت آپ قبول احمدیت کی سعادت پاچکے تھے۔نوٹ: آپ کے تفصیلی حالات حاصل نہیں ہو سکے۔اولاد : آپ کے بیٹے حضرت محمد ابراہیم صاحب نے ۱۸۹۷ء میں بیعت کی۔آپ ان دنوں جہلم میں محکمہ ویکسی نیشن میں ملازم تھے۔(ان کی اہلیہ کا نام حضرت جنت بی بی تھا۔ہر دو کا وصیت نمبر ۹۴۴۔۹۴۵ ہے۔) ماخذ : (۱) الفضل قادیان ۱۵ / جولائی ۱۹۱۵ء(۲) تاریخ احمدیت جلداول۔۱۰۱۔حضرت شیخ عبدالرحمن صاحب نومسلم قادیان ولادت: یکم جنوری ۱۸۷۹ء۔بیعت: اکتوبر ۱۸۹۵ء۔وفات : ۵/جنوری ۱۹۶۱ء تعارف: حضرت شیخ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ( ہریش چندر موہیال) کنجر وڑ دیتاں تحصیل شکر گڑھ ضلع گورداسپور ( حال ضلع نارووال ) میں یکم جنوری ۱۸۷۹ء کو پیدا ہوئے۔آپ موہیال قبیلہ کے چشم و چراغ تھے۔ہندو مذہب میں سابق نام ہریشچند رموہیاں تھا۔آپ کے والد صاحب کا نام مہتہ گوراند تبدیل تھا۔آپ کے آباء ممدوٹ کے کاروبار حکومت میں بڑا دخل رکھتے تھے۔خاندان میں سے کسی نے اظہار اسلام کر دیا تو پوری قوم نے ریاست ممدوٹ کے نواب سے اسے واپس کرنے کو کہا لیکن نواب صاحب نے اسے واپس نہ کیا تو یہ لوگ برسر پر کار ہو گئے اور آخر نقل مکانی کر کے کنجروڑ میں دست برادری کے پاس و دوباش اختیار کی۔اسلام کی طرف رغبت : ہندوانہ رسوم کے زیر اثر شیخ صاحب کے والدین نے آپ کے کان چھدوا رکھے تھے۔دیوی دیوتا کے سامنے نہایت عقیدت اور شوق سے اپنے جسم کا خون گراتے۔ایک پنڈت سے وید منتر یاد کر رکھے تھے۔تالاب پر جا کر پڑھ پڑھ کر پوجاپاٹھ اور پرارتھنا کرتے۔یہ اس زمانہ کی باتیں ہیں جب آپ کی عمر نو دس یا گیارہ سال کی