تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 157 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 157

157 یہ سنتے ہی کھڑے ہو گئے۔تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر اس سوٹی کو جو آپ کے ہاتھ میں تھی زمین پر رگڑتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ میاں صاحب پھر اس کا آپ کو کیا فائدہ پہنچا اور اگر ایسا ہو جائے تو اس شخص کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ وہ چونکہ اہل اللہ میں سے تھے اس لئے آپ نے ابھی اتنا ہی فقرہ کہا تھا کہ وہ فوراً سمجھ گئے اور کہنے لگے حضور میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ میں ایسا نہیں کروں گا۔میں سمجھ گیا ہوں کہ یہ ایک بے فائدہ چیز ہے۔اس کا دین اور روحانیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں“ ( تفسیر کبیر جلد پنجم صفحه ۳۴۲) نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے مزہ تو جب ہے کہ گرتے کو تھام لے ساقی حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے آپ کے بارے میں لکھا: آپ ہی وہ بزرگ تھے جن کی معرفت آموز اور حقیقت شناس آنکھوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جھکی ہوئی نیم باز آنکھوں میں اللہ تعالیٰ کی تجلی کا ایک خاص نور مسیحیت ،مہدویت اور نبوت کے دعوے سے پیشتر ہی دیکھ لیا تھا جو ہرہ کی تابانی سے چمک رہا تھا۔“ طب روحانی: سیدنا حضرت مسیح موعود نے آپ کی تصنیف ”طب روحانی کا تعارف رسالہ نشان آسانی دیا ہے اور اسے پڑھنے کی تحریک فرمائی ہے۔وفات: حضرت صوفی احمد جان کی وفات ۱۹ار ربیع الاول ۱۳۰۴ھ کو ہوئی لدھیانہ کے قبرستان گور غریباں“ میں تدفین ہوئی۔اولاد: آپ کی اہلیہ حضرت قمر جان صاحبہ نے ۱۳ جنوری ۱۹۱۶ء کو وفات پائی جن سے آپ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئی۔آپ کی ایک بیٹی حضرت صغری بیگم المعروف حضرت اماں جی ” حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے عقد میں آئیں۔جنہوں نے خواتین میں سب سے پہلے بیعت کی۔دوسری بیٹی حضرت غفور بیگم صاحبہ نے ۱۴ را پریل ۱۹۵۷ء کو وفات پائی۔آپ کے بیٹے حضرت پیر افتخار احمد صاحب اور حضرت منظور محمد صاحب رفقا ۳۱۳۰ میں شامل ہیں۔آپ کی اہلیہ حضرت قمر جان اور ساری اولاد کو حضرت اقدس کی بیعت کا شرف حاصل ہوا اور حضرت ملک جان اہلیہ حضرت پیر افتخار احمد اور حضرت محمدی بیگم اہلیہ پیر منظور محمد صاحب اور ان کی اولا د کور فقاء میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا۔حضرت صوفی احمد جان کی اولا دلا ہور ، فیصل آباد، کراچی اور ربوہ میں آباد ہے۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ (۲) حیات احمد جلد سوم (۳) تفسیر کبیر جلد پنجم (۴) مضمون ” حضرت منشی احمد جان صاحب لدھیانوی، مطبوعہ ریویو آف ریجنز (اردو) ستمبر ۱۹۴۷ء۔