تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 153 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 153

153 میرے شیشہ دل پر پتھر کا کام کیا۔کیا کہوں ! مختصر یہ کہ اب غم والم نا قابل برداشت ہے۔بھائی صاحب متقی، پرہیز گار اور ہمارے سر کے سرتاج تھے ان کی وفات کی عجیب کہانی ہے کنگھڑ، علاقہ ڈیرہ غازی خان میں احمدی مشن کی تبلیغ بڑے زور سے کر رہے تھے اور اس علاقہ کی احمدی جماعت ( جو کہ بے یارو مددگار دشمن کے منہ کا شکارتھی ) میں ایک نئی روح پھونک دی تھی۔کوہ سلیمان میں مدفون ہوئے۔ہر چند کہ ان کی موت قابل رشک ہے لیکن دوارمان دل کے اندر رہ ہی گئے ایک تو یہ کہ ان کا مزار بے ٹھکانہ ہے دوسرے بسبب بعد مسافت کے ان سے زندگی میں ملنا تو درکنار جنازہ میں بھی شامل نہ ہو سکا۔۷ دسمبر ۱۹۰۵ء کو حضرت مسیح موعود نے وفات پا جانے والے چند اصحاب کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا: وو سال گذشتہ میں ہمارے کئی دوست جدا ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے ارادہ میں کوئی مصالح رکھے ہوں گے اس سال میں خون کے معاملات دیکھنے پڑے۔“ البدر ۱ جنوری ۱۹۰۶ صفحہ ۸ نے بھی پچھلے سال کے فوت شدہ خلصین کا ذکر کیا ہے جس میں آپ کا نام بھی شامل ہے۔اولاد: سردار محمد عنایت اللہ خان حیرت لیہ آپ کے پوتے تھے۔جنہوں نے قادیان تعلیم پائی اور خاندان حضرت اقدس میں تربیت پائی (جن کا انتقال ۱۶ / دسمبر ۱۹۸۶ء کو ہوا۔) مکرم منشی فتح محمد کے دو بیٹے تھے۔مکرم عبداللہ خان صاحب اور مکرم عبدالرحمن صاحب - مکرم عبد اللہ خان صاحب میں سے چھ بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں جن میں سے صرف سردار محمد عنایت اللہ صاحب احمدی تھے۔حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کو حیرت کا خطاب دیا۔مکرم سردارمحمد عنایت اللہ خان صاحب کو حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تھا کہ آپ کے خاندان سے احمدیت ختم نہ ہوگی۔چنانچہ آپ کے 4 بیٹے اور 4 بیٹیاں خدا کے فضل سے احمدی ہیں۔مکرم منور اقبال صاحب بلوچ آپ کے بیٹے سابق امیر ضلع لیہ ہیں۔(ان کے بیٹے مکرم ڈاکٹر احمد عمران صاحب فضل عمر ہسپتال میں خدمات بجالا رہے ہیں۔) ماخذ: (۱) آریہ دھرم روحانی خزائن جلد ۱۰ (۲) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۵) اخبار البدر ۱۲ جنوری ۱۹۰۶ ء (۶) روزنامه الفضل ربوه مورخها ارجون ۱۹۹۴ء مضمون محترم سردار محمد عنایت اللہ خان حیرت (۷) عسل مصفی حصہ دوم صفحه ۴۶۸ تا ۴۷۰ ایڈیشن دوم ۱۹۱۴ء۔