تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 128 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 128

128 اولاد: آپ کے ۲ بیٹے اور بیٹیاں تھے جن میں سے میاں نذیر احمد صاحب بطور اسٹنٹ ایڈیٹر الفضل خدمات بجا لاتے رہے۔ماخذ : (۱) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۳) آریہ دھرم روحانی خزائن جلد ۱۰ (۴) حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ (۵) رجسٹر بیعت اولی اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ ۳۵۶ (۶) لاہور تاریخ احمدیت۔☆ ۷۵۔حضرت شیخ مسیح اللہ صاحب شاہجہان پوری بیعت: ۱۸۹۵ء۔وفات :۶ / نومبر ۱۹۰۶ء تعارف: حضرت شیخ مسیح اللہ رضی اللہ عنہ بھارتی صوبہ اتر پردیش کے مشہورشہر شاہجہانپور سے تعلق رکھتے تھے۔احمدیت سے تعارف : خیال ہے آپ تک احمدیت کا پیغام حضرت مرزا نیاز بیگ صاحب ( والد حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب) کے ذریعہ پہنچا جو ان دنوں محکمہ انہار ملتان میں ضلعدار تھے اور ۱۸۹۷ء میں وہاں سے پنشن یاب ہوئے۔اس وقت حضرت شیخ صاحب بطور خانساماں مہتم محکمہ انہار ملتان میں تھے۔بیعت : ستمبر ۱۸۹۵ء میں حضور نے حکومت کے نام ایک اشتہار شائع کیا جس کے آخر میں اپنی جماعت کے قریباً ۷۰۰ افراد کے نام درج فرمائے۔حضرت شیخ مسیح اللہ صاحب کا نام بھی اُن احباب میں شامل ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ۱۸۹۵ء تک آپ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو چکے تھے۔حضور کا یہ اشتہار ” آر یہ دھرم میں درج ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : سراج منیر میں چندہ مہمان خانہ میں اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے ضمن میں نام درج ہے۔حضرت اقدس نے ایک اشتہار میں مخالفین کی طرف سے گورنمنٹ کو پہنچائی گئی خلاف واقعہ اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے اپنے خاندان اور سلسلہ کے صحیح حالات بیان فرمائے۔چنانچہ ۲۴ رفروری ۱۸۹۸ء کو دیئے گئے اشتہار میں آپ کا نام بھی شامل ہے۔نمبر ۲۸۳ مسیح اللہ خاں صاحب ملازم ایگزیکٹو انجینئر صاحب ملتان۔دینی خدمات : حضرت شیخ مسیح اللہ ہجرت کر کے مسیح الزماں کے قدموں میں قادیان آگئے۔آپ کا سن ہجرت معلوم نہیں ہو سکا۔قادیان آ کر مدرسہ تعلیم الاسلام کے بورڈنگ میں ملازم رہے پھر ایک دوکان کھول لی۔اس کے علاوہ قادیان میں بھی بطور خانساماں خدمت کی توفیق پائی۔۱۷ار نومبر ۱۹۰۱ء کی صبح کو حضور سیر سے واپس تشریف لائے تو ایک برطانوی سیاح ڈی ڈی ڈکسن تشریف لائے اور بتایا کہ سیاحت کرتے ہوئے صرف ایک دن کے قیام کا پروگرام لے کر آئے ہیں۔حضور نے مزید دن ٹھہرنے کو کہا مگر اصرار کے باوجود صرف ایک رات کے رہنے پر