تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 127
127 ماخذ : (۱) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۲ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵(۳) تحفہ قیصر یہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۵) آریہ دھرم روحانی خزائن جلد۱۰ (۶) سرمه چشم آرید روحانی خزائن جلد نمبر ۲ (۷) تبلیغ رسالت جلد دوم ص ۱۱۸ (۸) رجسٹر بیعت اولی مندرجہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ ۳۵۶ (۹) لاہور تاریخ احمدیت (۱۰) تاریخ احمدیت راولپنڈی (۱۱) اخبار الحکم قادیان ۱۹۰۲۶۱۹۰۱ (۱۲) اخبار بدر ۱۹۰۰ (۱۳) تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اول (۱۴) مکتوب راجہ عبدالجبار فرینکفورٹ جرمنی ☆ ۷۴۔حضرت منشی معراج الدین صاحب لاہور ولادت : ۱۸۷۸ء۔بیعت : ۱۶ جولائی ۱۸۹۱ء۔وفات : ۲۱ / جولائی ۱۹۴۰ء تعارف: حضرت منشی معراج الدین رضی اللہ عنہ وارث میاں محمد سلطان صاحب میاں عمر دین کے بیٹے تھے جن کے والد میاں الہی بخش ولد میاں قادر بخش تھے۔آپ کے دادا میاں الہی بخش کے بھائی میاں محمد سلطان ٹھیکیداری کا کام کرتے تھے۔جنہوں نے لاہور ریلوے اسٹیشن، ضلع کچہری اور سرائے سلطان تعمیر کروائی تھی۔آپ کی ولادت سال ۱۸۷۸ء کو ہوئی۔بیعت: حضرت منشی صاحب حضرت مولوی رحیم اللہ کی تبلیغ سے حضرت مسیح موعود کے سلسلہ بیعت میں داخل ہوئے اور آپ کی بیعت کے چند سال کے اندر اندر سارا خاندان سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہو گیا۔شہر لاہور کے پرانے باشندوں میں یہ ایک بڑا خاندان ہے جس نے سب سے پہلے احمدیت قبول کی۔رجسٹر بیعت اولیٰ میں آپ کی بیعت ۱۲ جولائی ۱۸۹۱ء کی ہے۔( تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ ۲۵۵) حضرت اقدس کی کتب میں ذکر: تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی، کتاب البریہ آریہ دھرم میں پُر امن جماعت اور حقیقۃ الوحی میں نشانات کے گواہ کے طور پر آپ کا ذکر ہے۔دینی خدمات: آپ کو تحریر کا خوب ملکہ تھا اور ایک قابل انشاء پرداز تھے۔براہین احمدیہ ہر چہار حصص کی ایک اشاعت پر آپ نے اس کا دیباچہ لکھا جس میں حضرت اقدس کے حالات درج کئے۔حضرت اقدس کی تائید میں ٹریکٹ وغیرہ لکھ کر شائع کرواتے تھے۔آپ کی کتب میں صداقت مریمہ « تقویم جنتری (۱۷۸۳ء تا ۱۹۰۷ء) (The Crusufixion by an eye witness) (ترجمہ) شامل ہیں۔آپ اخبار بدر قادیان کے مالک رہے۔وفات : آپ کی وفات ۲۱ جولائی ۱۹۴۰ء کو عمر باسٹھ سال ہوئی اور بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبر ۵ حصہ میں تدفین ہوئی۔