تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 121 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 121

121 ☆ ۶۹۔حضرت میاں کریم الدین صاحب مدرس قلعہ سوبھا سنگھ بیعت : ۲۹ / دسمبر ۱۸۹۶ء۔وفات: ۷/اکتوبر۱۹۵۷ء تعارف: حضرت میاں کریم الدین رضی اللہ عنہ موضع پنج گرائیں تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔۱۸۹۵ء میں نارمل سکول لاہور سے امتحان پاس کیا اور مڈل سکول قلعہ سوبھا سنگھ میں نائب مدرس مقرر ہوئے۔رویا میں راہنمائی: سکول میں ایک سیکنڈ ماسٹر جو سید تھے حضرت اقدس کی کتاب ” ازالہ اوہام پڑھا کرتے تھے لیکن حضور کی بیعت نہیں کی تھی۔ان ہی دنوں میں آپ نے حضرت اقدس کو خواب میں دیکھا اور مصافحہ بھی کیا۔بعد ازاں آپ نے چوہدری نبی بخش صاحب حوالدار کو خواب میں دیکھا کہ انہیں الہام ہوتا ہے اور وہ بیعت بھی کر چکے تھے۔اس کا ذکر آپ نے اس سید صاحب (سیکنڈ ماسٹر ) سے کیا تو وہ ٹال گئے لیکن آپ کو یقین ہو گیا کہ جب حضرت اقدس کے مریدوں کو الہام ہوتا ہے تو حضرت کا دعویٰ بالکل درست ہے۔بیعت : ۱۸۹۶ء میں پیدل قادیان پہنچے اور حضرت حکیم فضل الدین صاحب بھیروی کی وساطت سے حضرت اقدس سے ملاقات کی اور ۲۹ دسمبر ۱۸۹۶ کو بیعت کر لی۔وفات : ۷ اکتو بر ۱۹۵۷ء کو وفات پائی۔آپ کی وصیت نمبر ۴۲۱۹ ہے آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبرے حصہ نمبر ۲۵ ہے اولاد : آپ کی اولا د سیالکوٹ ، ملتان ، جیکب آباد میں ہے آپ کے بیٹے عبد الکریم صاحب اور پوتے مقصود احمد انجینئر جیکب آباد اور دوسرے پوتے ڈینٹل سرجن ڈاکٹر جاوید احمد بھٹی کراچی میں ہیں ( آپ نے مٹھی ضلع تھر پارکر اور نگر پار کر کے ہسپتال کے لئے واقف زندگی کے طور پر کام کیا ہے۔) نوٹ : مزید سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) رجسٹر روایات صحابہ نمبر ۸ صفحه ۱۲۷۱ تا۲۷۴ (۲) روز نامه الفضل ربوه ۹ اکتوبر ۱۹۵۷ (۳) روز نامه الفضل ربو ه ۲۴ / اگست ۱۹۹۹ء ( بیان فرموده حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ )