تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 113 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 113

113 ہوتی فرمایا ”ہمیں تمہارے اخلاص اور عقیدت سے دبانے سے آرام پہنچتا ہے۔“ حضرت ڈاکٹر سید میر محمد اسمعیل ابن حضرت سید میر ناصر نواب اور میاں محمد اسمعیل مل کر اکثر حضرت اقدس کی خدمت میں جاتے تو آپ دیکھ کر فرماتے ” سمعیلین “ پھر یہ دونوں آپ کے پائے مبارک دبانے بیٹھ جاتے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے آپ کا ذکر تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں شریک اور اپنی پُر امن جماعت کے ضمن میں فرمایا ہے۔وفات : ۲۵ / جون ۱۹۴۴ء کو قادیان میں آپ کی وفات ہوئی۔آپ کا وصیت نمبر ۷۵۱۰ ہے اور آپ کی تدفین بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبر ۴ حصہ نمبر ۵ میں ہوئی۔ماخذ: (۱) تذکرة المهدی (۲) سیرت حضرت مسیح موعود جلد سوم (۳) رسالہ تعلیم الاسلام دسمبر ۱۹۰۶ء (۴) رجسٹر روایات جلد چہارم۔۶۳۔حضرت میاں عبدالعزیز صاحب نومسلم۔قادیان بیعت : ۱۸۹۵ء تعارف و بیعت: حضرت میاں عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کا پہلا نام چھتر سنگھ تھا۔حضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی صاحب فرماتے ہیں: و شیخ عبدالعزیز صاحب (نومسلم) جو علاقہ ریاست جموں کے باشندے تھے مجھ سے قریباً دو ہفتے قبل قادیان میں آچکے تھے۔وہ میرے ساتھ تعلق محبت رکھتے اور مل جل کر رہتے تھے۔اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۱۸۹۵ء میں آپ بیعت کر چکے تھے۔( کیونکہ یہی وہ سال ہے جب حضرت بھائی عبدالرحمن قادیانی نے قادیان میں بیعت کی تھی۔) ان کو لوگ اکثر کہتے تھے کہ ختنہ کروالو۔وہ بیچارے چونکہ بڑی عمر کے ہو گئے تھے۔اس لئے ہچکچاتے تھے اور تکلیف سے بھی ڈرتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا گیا کہ آیا ختنہ ضروری ہے فرمایا بڑی عمر کے آدمی کے لئے ستر عورت فرض ہے مگر ختنہ صرف سنت ہے۔اس لئے ان کے لئے ضروری نہیں کہ ختنہ کروائیں۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی میں شامل ہونے والوں میں آپ کا ذکر کیا ہے۔نور القرآن میں آریہ صاحبان کے نام جو حضرت امام کامل کی خدمت میں حاضر ہیں۔آپ کا نام بھی درج ہے۔حاشیہ میں لکھا ہے۔شیخ عبد العزیز صاحب بھی ابھی تھوڑا عرصہ ہوا قادیان میں مشرف باسلام ہوئے۔نیک صالح