تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 91
91 دنیا بڑا دھوکہ دینے والا مقام ہے جس کو آخرت پر ایمان ہے وہ کبھی اس غم سے غمگین اور نہ اس کی خوشی۔خوش ہوتا ہے۔والسلام کے فروری ۱۸۸۷ء ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۳۹ (۲) روز نامه الفضل ربوہ ۳۰ جنوری ۲۰۰۱ء(۳) رجسٹر جت مطبوعه تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۵۱ جدید ایڈیشن ☆ ۴۵۔حضرت میرزا محمد یوسف بیگ صاحب سامانہ ریاست پٹیالہ بیعت : ۱۸۸۹ء تعارف: حضرت مرزا محمد یوسف بیگ صاحب رضی اللہ عنہ کے والد محترم مرزا رستم بیگ صاحب ساکن محله اندر کوٹ سامانہ علاقہ پٹیالہ تھے۔آپ کے حضرت اقدس سے اس وقت سے تعلقات تھے جب حضور گوشہ نشینی میں بیعت : آپ ان خوش نصیب اصحاب میں سے ہیں جنہوں نے مارچ ۱۸۸۹ء کو لدھیانہ کے مقام پر حضرت مسیح موعود کی بیعت کی سعادت حاصل کی۔رجسٹر بیعت میں آپ کی بیعت کا اندراج ۳۹ نمبر پر ہے۔آپ کا سارا خاندان بفضلہ تعالیٰ شامل احمدیت تھا۔حضرت مرزا ابراہیم بیگ ( یکے از تین سو تیرہ ) اور اس خاندان میں حضرت مرزا یوسف بیگ کے علاوہ دس خواتین نے ۱۸۸۹ء میں بیعت کر لی تھی۔حضرت اقدس کا آپ کے بارہ میں ارشاد: حضرت مسیح موعودؓ فرماتے ہیں: جی فی اللہ مرزا محمد یوسف بیگ صاحب سامانوی۔مرزا صاحب مرزا عظیم بیگ صاحب مرحوم کے حقیقی بھائی ہیں جن کا حال رسالہ فتح اسلام میں لکھا گیا ہے۔۔میرزا صاحب موصوف ایک اعلیٰ درجہ کی محبت اور اعلیٰ درجہ کا اخلاص اور اعلیٰ درجہ کا حسن ظن اس عاجز سے رکھتے ہیں اور میرے پاس وہ الفاظ نہیں جن کے ذریعہ سے میں ان کے خلوص کے مراتب بیان کر سکوں یہ کافی ہے کہ اشارہ کے طور پر میں اسی قدر کہوں کہ هو رجل يحبنا و نحبه و نَسئل الله خيره في الدنيا والآخرة۔میرزا صاحب نے اپنی زبان اپنا مال اپنی عزت اس لیہی محبت میں وقف کر رکھی ہے اور ان کا مریدانہ اور شبانہ اعتقاد اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ اب ترقی کے لئے کوئی مرتبہ باقی نہیں معلوم ہوتا۔و ذالک فضل الله يوتيه من يشاء۔۔۔۔66 (ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۳ ص ۵۳۱،۵۳۰) آپ کے بارہ میں حضرت اقدس کا تذکرہ: حضرت مسیح موعود نے آپ کے بیٹے حضرت مرزا محمد ابراہیم بیگ صاحب کی وفات کے متعلق اپنے ایک کشف کو بطور نشان پیش فرمایا۔اس نشان کا تذکرہ حضور نے اپنی کتاب