تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 90 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 90

90 نواسیوں اور پڑنوا سے پڑنواسیوں کی کثیر تعداد ہے آپ کے تفصیلی حالات کا ذکر سیرت حضرت نواب محمد علی خاں صاحب مصنفہ محترم ملک صلاح الدین مرحوم میں ہے۔ماخذ: (1) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد نمبر ۳ (۲) مکتوبات احمد یہ جلد ہفتم حصہ اول صفحہ ۵-۶ (۳) رجسٹر بیعت مندرجه تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحه ۴ ۳۵ جدید ایڈیشن (۴) ملفوظات حضرت اقدس (۵) تاریخ احمدیت جلد دہم صفحہ ۴۷۷ تا ۷ ۴۸ (۶) اصحاب احمد جلد دوم۔☆ ۴۴۔حضرت سید محمد عسکری خانصاحب سابق اکسٹرا اسٹنٹ اله آباد بیعت : ۲۳ / جنوری ۱۸۹۰ تعارف: حضرت سید محمد عسکری خاں رضی اللہ عنہ الہ آباد کے ضلع کے رہنے والے تھے۔آپ کے والد ماجد کا نام سید محمد ماہ تھا جو کٹڑ اضلع اللہ آباد کے تھے۔حضرت اقدس مسیح موعود نے آپ کی نسبت تحریر فرمایا ہے کہ : اس عاجز سے دلی محبت رکھتے ہیں بلکہ ان کا دل عطر کے شیشہ کی طرح محبت سے بھرا ہوا ہے۔نہایت عمدہ صاف باطن یک رنگ دوست ہے۔معلومات وسیع رکھتے ہیں ایک جید عالم قابل قدر ہیں۔“ (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۳۹) بیعت : آپ نے ۲۳ جنوری ۱۸۹۰ء کو بیعت کی جس وقت حضرت اقدس نے ازالہ اوہام تصنیف فرمائی اُن دنوں بیمار تھے اور ملازمت سے پنشن پاچکے تھے۔حضرت اقدس کا آپ کے نام مکتوب: حضرت اقدس نے حضرت سید محمد عسکری خاں رئیس ضلع الہ آباد اکسٹرا اسٹنٹ مدارالمہام ریاست بھوپال کے نام خط میں فرمایا: ” میری زندگی صرف احیاء دین کے لیے ہے اور میرا اصول دنیا کی بابت یہی ہے کہ جب تک اس سے بلکلی منہ نہ پھیر لیں ایمان کا بچاؤ نہیں۔راحت ورنج گزرنے والی چیزیں ہیں اگر ہم دنیا کے چند دم مصیبت ورنج میں کائیں گے تو اس کے عوض جاودانی راحت پائیں گے۔بہشت انہی کی وراثت ہے جو دنیا کے دوزخ کو اپنے لیے قبول کرتے ہیں اور لذات عیش و عشرت دنیوی کے لئے مرے نہیں جاتے۔دنیا کیا حقیقت رکھتی ہے اور اس کے رنج و راحت کیا چیز ہیں جس کو آخری خوشحالی کی خواہش ہے اس کے لئے یہی بہتر ہے کہ تکالیف دنیوی کو با انشراح صدر اٹھائے اور اس ناپاک گھر کی عزت اور ذلت کو کچھ نہ سمجھے یہ