تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 85 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 85

85 کے ساتھ آپ زیارت کے لئے پہنچے۔حضرت اقدس کے حسن اخلاق کی شہادت: آپ نے دیکھا کہ حضرت اقدس نہایت کشادہ دلی سے لوگوں کے ساتھ بے تکلف ہو کر بات چیت کر رہے تھے۔لوگ سوالات کرتے تھے اور آپ جوابات دیتے تھے۔یہاں تک کہ ایک شخص وارد ہوا اور اس نے حضرت صاحب کو ان کے منہ پر گالیاں دینی شروع کیں۔حضرت صاحب سر نیچا گئے اس کی گالیاں سنتے رہے۔جب وہ گالیاں دیتے دیتے تھک گیا تو حضرت صاحب نے فرمایا ” بھائی کچھ اور کہہ لے اس پر وہ بہت شرمندہ ہوا اور حضرت صاحب سے معافی مانگنے لگا اور کہا کہ مجھے معاف کر دیں میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا۔اتفاق سے سامعین میں ایک تعلیم یافتہ ہند بھی تھا۔اس نے کہا کہ حضرت مسیح کے تحمل اور بردباری کا قصہ تو کتابوں میں پڑھا ہے مگر اس رنگ میں رنگین کوئی شخص دیکھنے میں نہ آیا تھا۔اس نے یہ بھی کہا کہ شخص کا میاب ہو جائے گا۔بیعت : حضرت صاحب کی شکل دیکھ کر اوران کا رویہ دیکھ کر آپ کو پکا یقین ہوگیا کہ یہ شخص صادق ہے جھوٹا نہیں“ اور آپ اسی روز یعنی ۵ فروری ۱۸۹۲ء کو بیعت کر کے لوٹے۔آپ کا نام رجسٹر بیعت میں ۳۲۰ نمبر پر درج ہے۔خدمات دینیہ : حضرت مولانا عبدالکریم سیالکوٹی کی آخری بیماری کے دوران آپ قادیان تین ماہ کی رخصت پر آئے ہوئے تھے۔اس دوران آپ کو حضرت مولوی صاحب کی خدمت کا خوب موقع ملا۔۱۸۹۵ء میں حضرت اقدس نے جو وفد چولہ باوانا نک سے متعلق تحقیقات کیلئے ڈیرہ بابا نانک بھیجا تھا۔اس میں آپ بھی شامل تھے۔حضرت اقدس علیہ السلام آپ کو اپنے اہل خانہ کے علاج کے سلسلہ میں عمو مالا ہور سے بلا لیتے تھے۔حضرت اقدس کی آخری بیماری کے ایام میں بھی آپ کو خدمت کا موقع ملا۔حضرت خلیفہ اسی الاول کے معالج بھی رہے۔حضرت خلیفہ امسیح الاول کی وفات کے بعد خلافت ثانیہ کے قیام پر آپ غیر مبائعین میں شامل ہو گئے۔آپ اسلامیہ کالج لاہور کے آنریری میڈیکل آفیسر تھے۔آپ لاہور کی انجمن حمایت اسلام کے ممبر تھے۔آپ کے خلاف ریزولیوشن پاس ہوا کہ چونکہ آپ احمدی ہیں اس لئے مسلمان نہیں لہذا آپ کو اس عہدہ سے فارغ کر دیا گیا۔اس بات کا آپ کو بہت دکھ پہنچا۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آپ کا ذکر کتاب البریہ میں پر امن جماعت کے ضمن میں بھی ہے۔ضمیمہ انجام آتھم ملفوظات جلد دوم میں آپ کے عربی قصیدہ الاسنفا من فروة العلماء سنانے کا ذکر ہے۔(ص:۳۰۲) میں حضرت اقدس نے فرمایا ” میں نے بارہا ان کو نمازوں میں روتے دیکھا ہے (صفحہ ۳۱) وفات: آپ خلافت اولی کے بعد نظام خلافت سے وابستہ نہ رہے اور غیر مبائعین میں شامل ہوئے گئے۔آپ ۱۲ فروری ۱۹۳۶ء کو وفات پاگئے۔ماخذ: (۱) ضمیمہ انجام آتھم صفحه ۲۹ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد نمبر ۱۳ (۳) یاد رفتگان حصہ اول صفحه ۸۳ تا ۹۷ (۴) رجسٹر بیعت مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۵۸ (۵) تاریخ احمدیت جلد هشتم صفحه ۳۲۔