تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 70 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 70

70 وفات : آپ کی وفات ۱۹۱۵ء میں ہوئی۔آپ کو حضرت مسیح موعود نے صد را انجمن احمد یہ قادیان کا ٹرسٹی مقر فر مایا تھا۔اولاد: آپ کی کوئی اولا دن تھی۔ماخذ : (۱) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۲) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد۱۳ (۳) حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ (۴) مکتوبات احمد یہ جلد چہارم (۵) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۶) حیات قدسی (۷) In The" Company of Promised Messiah صفحه ۹۶ تا ۹۸ (۸) خطبات محمود جلد نمبر ۹صفحہ ۲۲۷۔۳۳۶ (۹) تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۵۱۴ (۱۰) اخبار الفضل ۲۶ / اگست ۱۹۱۵ء (۱۱) ذکر حبیب۔(۱۲) رجسٹر روایات جلد اول ۳۰۔حضرت میاں جمال الدین سیکھواں گورداسپور معہ اہلبیت بیعت ۲۳ نومبر ۱۸۸۹ء۔وفات :۱۴ اگست ۱۹۲۲ء تعارف: حضرت میاں جمال الدین رضی اللہ عنہ قادیان سے چار میل کے فاصلے پر جانب مغرب ایک گاؤں سیکھواں کے تھے۔سیکھواں سے آپ کے بھائی میاں امام الدین اور میاں خیر الدین حضرت اقدس مسیح موعود کے قدیم اور مخلص رفقاء میں سے تھے۔آپ کے والد کا نام محمد صدیق صاحب تھا۔باقی دونوں بھائیوں کے حالات نمبر ۳۱ اور نمبر ۳۲ پر درج ہیں۔بیعت آپ کی بیعت ۲۳ نومبر ۱۸۸۹ء کی ہے اور رجسٹر بیعت اولی میں ۱۴۹ نمبر پر نام درج ہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : آسمانی فیصلہ ۱۸۹۱ء کے جلسہ سالانہ آئینہ کمالات اسلام میں اور چندہ دہندگان کی فہرست میں نام شامل ہے۔سراج منیر چندہ مہمانخانہ دینے والوں میں تحفہ قیصریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جو بلی کے شرکاء میں اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کی فہرست میں نام درج ہے۔ضمیمہ انجام آتھم میں آپ کا کم معاش اور مالی قربانی کرنے والوں میں ذکر ہے۔دینی خدمات : حضرت اقدس کی کتب میں ذکر کے علاوہ منارہ مسیح کے لئے مالی قربانی کرنے والے اپنے دیگر بھائیوں کے ساتھ جولائی ۱۹۰۰ء کے اشتہار میں ذکر موجود ہے۔وفات: آپ کی وفات ۱۴، اگست ۱۹۲۲ء میں ہعمر ۶۳ سال میں ہوئی۔آپ کی وصیت نمبر ۹۴ ہے تدفین بہشتی مقبرہ قادیان قطعہ نمبر ۲ حصہ نمبر ۹ میں ہوئی۔ماخذ: (۱) آسمانی فیصلہ روحانی خزائن جلد ۲ (۲) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ (۳) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۵) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد۱۱ (۶) رجسٹر بیعت اولی مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد ا صفحه ۳۵ (۷) سیرت المہدی حصہ سوم صفحه ۳۰