تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 64
64 (۷) حیاتِ ناصر (۸) مضمون مطبوعہ 'الفضل ۱۲ / مارچ ۲۰۰۱ء (۹) مضمون مطبوعه الفضل ۲۳ فروری ۱۹۹۸ء (۱۰) مضمون مطبوعه الفضل ۳ /اکتوبر ۱۹۹۸ء (۱۱) رجسٹر بیعت مطبوعہ تاریخ احمدیت جلد ا صفحه ۳۵۵ (۱۲) دو بھائی از مکرم مولانا غلام باری سیف صاحب (۱۳) سیرت سیدہ نصرت جہاں بیگم۔☆ ۲۶۔حضرت صاحبزادہ افتخار احمد صاحب لدھیانوی معہ اہلبیت حال قادیانی بیعت : ۹ر جولائی ۱۸۹۱ء۔وفات: ۸جنوری ۱۹۵۱ء تعارف: حضرت صاحبزادہ افتخار احمد رضی اللہ عنہ معروف صوفی خاندان کے بزرگ حضرت منشی احمد جان آف لدھیانہ کے بیٹے تھے۔حضرت منشی احمد جان صاحب کی نگاہ نے حضرت اقدس مسیح موعود کو بہت پہلے سے شناخت کرلیا تھا اور اس کا اظہار بھی فرمایا ہم مریضوں کی ہے تمہی پہ نگاہ تم مسیحا بنو خدا کے لئے حضرت اقدس کی پہلی زیارت اور بیعت : پہلی بار حضرت صاحبزادہ نے حضرت اقدس کی زیارت ۱۸۸۷ء میں کی جب بشیر اول کے عقیقہ پر قادیان تشریف لائے اور ۹ / جولائی ۱۸۹۱ء کو حضرت اقدس کی بیعت کی سعادت پائی۔آپ کی بیعت رجسٹر بیعت کے مطابق ۲۴۰ نمبر پر ہے۔آپ کی اہلیہ حضرت ملکہ جان نے ۱۶ / اپریل ۱۸۹۲ء کو بیعت کی۔آپ کی بیعت ۳۲۸ نمبر پر ہے۔۱۹۰۱ء میں معہ اہل وعیال قادیان آ گئے۔حضرت مولوی عبدالکریم کے ساتھ خط و کتابت میں معاونت کرتے رہے اور ۱۹۲۷ء تک خدمت بجالاتے رہے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر: ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۵۳۹ پر حضرت اقدس نے فرمایا :۔یہ جوان صالح میرے مخلص اور محب صادق حاجی حرمین شریفین منشی احمد جان صاحب مرحوم و مغفور کے خلف رشید ہیں اور بمقتضائے الولد سر لابیه تمام محاسن اپنے والد بزرگوار کے اپنے اندر جمع رکھتے ہیں اور وہ مادہ ان میں پایا جاتا ہے جو ترقی کرتا کرتا فانیوں کی جماعت میں انسان کو داخل کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ روحانی غذاؤں سے ان کو حصہ وافر بخشے اور اپنے عاشقانہ ذوق و شوق سے سرمست کرے۔آمین ثم آمین کتاب آسمانی فیصلہ میں پہلے جلسہ سالانہ ۱۸۹۱ء میں آپ کا نام ۴۹ نمبر پر ہے اور آئینہ کمالات اسلام میں جلسہ۱۸۹۲ء میں ۵۲ نمبر پر ذکر فرمایا ہے۔تحفہ قیصریہ اور کتاب البریہ میں جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور پر امن جماعت کی فہرست