تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 32 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 32

32 ☆۔حضرت میاں محمد خان صاحب۔۔۔۔۔کپور تھلہ ولادت : ۱۸۶۰ء۔بیعت : ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء۔وفات : یکم جنوری ۱۹۰۴ء پس منظر بیعت : حضرت میاں محمد خان رضی اللہ عنہ کے والد دلاور خاں صاحب کپورتھلہ کے رہنے والے تھے۔جن کے جد امجد افغانستان سے آ کر کپورتھلہ میں آباد ہوئے تھے۔آپ کی ولادت سال ۱۸۶۰ء میں ہوئی۔آپ ریاست کپورتھلہ کے سرکاری اصطبل کے انچارج تھے۔جب براہین احمدیہ چھپی تو حضرت مسیح موعود نے اس کا ایک نسخہ حاجی ولی اللہ صاحب کو بھیجا ( جو کپورتھلہ میں مہتم بندوبست تھے۔) حاجی صاحب نے یہ کتاب حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کو دے دی۔کپورتھلہ میں یہ کتاب ایک محفل میں پڑھوا کر سنی جاتی تھی۔حضرت میاں محمد خان نے بھی اس کتاب کا مطالعہ کیا اور انہیں حضرت مسیح موعود سے محبت ہو گئی۔شرف بیعت : ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ ء جب حضرت مسیح موعود کی لدھیانہ میں پہلی بیعت ہوئی تو حضرت میاں صاحب نے بھی بیعت کر لی۔رجسٹر بیعت اولی میں آپ کا بیعت نمبر ۵۸ ہے جبکہ آپ اہلمد فوجداری کپورتھلہ تھے۔آپ کی اہلیہ صاحبہ نے ۲۱ فروری ۱۸۹۲ء میں بمقام کپورتھلہ حضرت اقدس کی بیعت کی۔(مکتوبات احمدیہ ) اس طرح آپ کی والدہ محترمہ کی بیعت بھی ۲۱ فروری ۱۸۹۲ء کی ہے۔جب دہلی میں مولوی نذیر حسین صاحب کے ساتھ مباحثہ ہوا تو اس وقت آپ حضرت اقدس کے ساتھ بارہ بزرگوں میں سے تھے جنہیں آپ نے حضرت مسیح ناصرٹی کے حواریوں کے ساتھ تشبیہ دی۔صدق و اخلاص: جب حضرت اقدس کے بیٹے بشیر اوّل کی وفات ہوئی تو آپ نے صدمہ سے ان جذبات کا اظہار کیا کہ اگر میری ساری اولاد بھی مرجاتی اور ایک بشیر جیتا رہتا تو کچھ رنج نہ تھا۔حضرت مولانا حکیم نورالدین نے اس موقع پر فرمایا کہ شخص تو ہم سے بھی آگے نکل گیا ہے“۔حضرت مسیح موعود کے لئے میاں صاحب بہت غیرت رکھتے تھے۔جب میاں صاحب فوت ہوئے تو حضرت اقدس کو الہام ہوا۔اہلیت میں سے کسی شخص کی وفات ہوئی ہے حاضرین کو تعجب ہوا۔دریں اثناء اسی مجلس میں حضرت میاں محمد خان کی وفات کی خبر ملی تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ الہام انہی کے بارہ میں تھا ( آپ کی وفات یکم جنوری ۱۹۰۴ء کو ہوئی) پھر حضرت اقدس نے اپنے اس عاشق کے بارہ میں فرمایا۔”مجھے ۲ جنوری کو ایسی حالت طاری ہو گئی تھی جیسے کوئی نہایت عزیز مر جاتا ہے۔ساتھ ہی الہام ہوا۔اولاد کے ساتھ نرم سلوک کیا جائے گا“ چنانچہ میاں صاحب کے فرزند اکبر نشی عبدالمجید خان صاحب آپ کے بعد افسر نکبھی خانہ مقرر ہوئے اور بالآ خر ترقی