تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 18
18 کامل عاشقاں در عظمت مولی فنا ( کلام حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ ) کامل آن باشد که با فرزند وزن با عیال و جمله مشغولئے تن! وہ ہوتا ہے جو باوجود بیوی بچوں کے اور باوجود عیال اور جسمانی مشاغل کے با تجارت با همه بیع و شراء! یک زماں غافل نه گردد از خدا اور باوجود تجارت اور خرید و فروخت کے کسی وقت بھی خدا سے غافل نہیں ہوتا ایں نشانِ قوتِ مردانه است کاملاں را بس ہمیں پیمانہ است یہ ہے مردوں والی طاقت کا نشان کاملوں کے لئے بس یہی معیار ہے کاروبار عاشقاں کار جداست برتر از فکر و قیاسات شماست عاشقوں کا کاروبار ہی جدا ہے اور تم لوگوں کے فکر و قیاس سے بالاتر جاں فروشان از چنے مد پیکرے بر زبان صد قصه ها از دیگرے ان کی جان تو ایک حسین کے لئے تڑپتی ہے اور ان کی زبان پر اور کا ذکر ہوتا ہے فانیاں را مانعی از یار نیست بچه و زن برسرِ شاں بار نیست فانی لوگوں کے لئے کوئی چیز بھی یار سے مانع نہیں ہے۔بیوی اور بچے ان کے سر پر بوجھ نہیں ہوتے عاشقاں در عظمت مولی فنا غرقه دریائے توحید از وفا! عاشق مولیٰ کی عظمت میں فنا ہیں اور وفاداری کی وجہ سے دریائے توحید میں غرق ہیں کین و مہر شاں ہمہ بہرِ خداست قہر شاں گرہست آں قہر خداست ان کی دشمنی اور دوستی سب خدا کے لئے ہے اگر ان کو غصہ بھی آتا ہے تو وہ خدا کا ہی غصہ ہے آنکه در عشق احد محو و فنا است ہر چہ زو آید ز ذاتِ کبریاست جو خدا کے عشق میں فانی اور محو ہے جو کچھ بھی وہ کرتا ہے وہ ذاتِ کبریا کی طرف سے ہے (اخبار ریاض ہندا مرتسر مورخہ یکم مارچ1886ء بحوالہ درنمین فارسی)