تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 11 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 11

11 ہے جس میں صراحتا مقام خروج حضرت مہدی علیہ السلام کو کدعہ کہا گیا ہے۔اس کا اندراج حضرت مسیح موعود علیہ السلام والے نسخے میں بھی ہے، جس پر آپ کی بابرکت آمد سے مہر تصدیق ثبت ہو جاتی ہے کہ کدعہ جو کہ قادیان کا مغرب ہے۔مقام خروج حضرت مہدی علیہ السلام ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ صحیفہ مختومه، ایک پیشگوئی پر دلالت کرتے ہیں۔جس کا ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے (ای مطبوعہ) چھپی ہوئی کتاب فرمایا ہے۔اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چھپی ہوئی کتا بیں نہ ہوتی تھیں، نہ ہی چھاپہ خانہ ایجاد ہوا تھا۔پس ان الفاظ میں چھاپہ خانہ کی ایجاد کی پیشگوئی بھی ہے اور حضرت مہدی علیہ السلام کے دور سے وابستہ اس ایجاد کا ذکر بھی ہے۔حضرت مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے اس پیشگوئی کے متعلق ضمیمہ انجام آتھم میں تحریر فرمایا: اب ظاہر ہے کہ کسی شخص کو پہلے اس سے یہ اتفاق نہیں ہوا کہ وہ مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کرے اور اس کے پاس چھپی ہوئی کتاب ہو جس میں اس کے دوستوں کے نام ہوں۔۔۔اتمام محبت کے لئے تین سو تیرہ نام ذیل میں درج کرتا ہوں تاہر ایک منصف سمجھ لے کہ یہ پیشگوئی بھی میرے ہی حق میں پوری ہوئی اور بموجب منشاء حدیث کے یہ بیان کر دینا پہلے سے ضروری ہے کہ یہ تمام اصحاب خصلت صدق وصفار کھتے ہیں اور حسب مراتب جس کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے بعض بعض سے محبت اور انقطاع الی اللہ اور سرگرمی دین میں سبقت لے گئے ہیں۔اللہ سب کو اپنی رضا کی راہوں میں ثابت قدم کرے۔(۱۵) خطی نسخہ زیر نظر کے مزید نسخوں کی تلاش میں جب برٹش لائبریری لندن کے جناب محمد عیسی ولی کیوریٹر پرشین وٹرکش مینوسکرپٹ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ایرانی لائبریریوں اور بوڈلین لائبریری آکسفورڈ سے رابطہ کرنے کا مشورہ دیا۔آکسفورڈ میں ڈیپارٹمنٹ آف اور نینٹل کولیکشن کی جناب ڈورس نکلسن صاحبہ نے اسی شعبہ کے اسلامک ایکسپرٹ جناب کولن و یک فیلڈ صاحب سے رابطہ کروایا جنہوں نے جواہر الاسرار" کے ایک دوسرے نسخہ میں وہ مقام تلاش کر دیا جہاں تھامہ اور کدعہ دونوں کا ذکر ہے۔خاکسار ( مکرم عاصم جمالی صاحب و مکرم مولا نا نصر اللہ خان صاحب ناصر ) کے رابطہ خانہ فرہنگ راولپنڈی سے معلوم ہوا کہ اسلام آباد میں گنج بخش مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان میں جواہر الاسرار کا نسخہ موجود ہے چنانچہ وہاں کے لائبریرین ( کتابدار ) کے تعاون سے جواہر الاسرار کا متعلقہ نسخہ میسر آیا -الحمد لله علی ذالک۔