تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 262 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 262

262 ہوا۔دیکھا کہ ایک باغ میں داخل ہوتے ہیں۔اندر ایک حوض ہے جو خشک تھا۔پھر آپ جنوب کی طرف چلے گئے۔وہاں الماریاں اور طاق بنے ہوئے ہیں اور آپ کے والد صاحب کھڑے ہیں۔انہوں نے آپ سے فرمایا کہ یہ گھاس اور کتابیں اب طاق میں رکھ دو تعمیل ارشاد کی۔فور اسر کو جھٹکالگا اور معا تفہیم ہوئی کہ تم پہلا علم اور حال بالائے طاق رکھو۔چونکہ آپ کے والد صاحب آپ کے پیر طریقت بھی تھے۔اُسی وقت حسب ایماء آنجناب حضرت مسیح موعود سے شرف بیعت حاصل کی اس کے بعد بالکل نیند نہ آئی۔آپ کی شادی ۱۸۷۷ء میں حضرت حکیم سید میر حسام الدین صاحب کی بیٹی سے ہوئی تھی۔اس سے ظاہر ہے کہ آپ کے حضرت اقدس سے قدیمی مراسم تھے۔کیونکہ حضرت اقدس کا قیام حضرت حکیم سید میر حسام الدین کے ہاں ہوا کرتا تھا۔۱۸۷۹ء میں محکمہ پولیس میں عارضی طور پر مقرر ہوئے اور پھر اپنی خدا دادلیاقت سے ۲۰ سال بعد انسپکٹر پولیس کے عہدے پر پہنچ گئے۔بیعت : آپ کا نام رجسٹر بیعت اولی میں ۱۳۸ نمبر پر ہے۔آپ نے ۹ / جولائی ۱۸۹۱ء کو بیعت کی۔آپ نے جلسه ۱۸۹۲ء میں بھی شرکت کی۔جس کا ذکر حضرت اقدس نے آئینہ کمالات اسلام میں فرمایا ہے۔(۲۱) سید خصیلت علی شاہ ڈپٹی انسپکٹر پولیس کڑیانوالہ ضلع گجرات حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے ایک تعزیتی خط میں حضرت حکیم سید میر حسام الدین رضی اللہ عنہ کو حضرت شاہ صاحب کے اخلاص کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: سید فصیلت علی شاہ صاحب کو جس قد ر خدا تعالیٰ نے اخلاص بخشا تھا اور جس قد رانہوں نے ایک پاک تبدیلی اپنے اندر پیدا کی تھی اور جیسے انہوں نے اپنی سعادت مندی اور نیک چلنی اور صدق اور محبت کا عمدہ نمونہ دکھایا تھا یہ باتیں عمر بھر کبھی بھولنے کی نہیں ہمیں کیا خبر تھی کہ اب دوسرے سال پر ملاقات نہیں ہوگی۔“ ) مکتوبات احمدیہ جلد ۵ نمبر ۵ صفحه ۱۱۴ تا ۱۱۵، واقعات ناگزیر صفحه ۲۴۹-۲۵۰) ازالہ اوہام اور آئینہ کمالات اسلام تحفہ قیصریہ اور سراج منیر میں جلسہ سالانہ میں شامل ہونے والوں ،جلسہ ڈائمنڈ جوبلی اور چندہ دہندگان میں بھی آپ کا ذکر کیا ہے۔اسی طرح حضرت مولوی غلام علی رہتاسی کی بیماری کا تار موصول ہونے پر فرمایا: ”ہماری جماعت جواب ایک لاکھ تک پہنچی ہے سب آپس میں بھائی ہیں اسی لئے اتنے بڑے کنبہ میں کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی نہ کوئی دردناک آواز نہ آتی ہو۔جو گزر گئے وہ بھی بڑے ہی مخلص تھے۔جیسے ڈاکٹر بوڑے خاں، سید فصیلت علی شاہ، ایوب بیگ منشی جلال الدین خدا ان سب پر رحم کرے۔“ (اخبار الحکم قادیان ۱۰ را کتوبر ۱۹۰۲ء)