تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 230
230 اسلام میں آپ کا ذکر ہے۔آئینہ کمالات اسلام کی تصنیف کے وقت آپ بیعت کر چکے تھے۔حضرت اقدس کی کتب میں ذکر : حضرت اقدس نے تحفہ قیصریہ میں ڈائمنڈ جوبلی میں شرکت کرنے والوں، سراج منیر میں چندہ دہندگان اور کتاب البریہ میں پُر امن جماعت کے احباب میں آپ کا نام درج ہے۔روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اقدس نے حضرت میاں قطب الدین کو دورانِ سر کی تکلیف کے دوران بلا کر پنڈلیوں کی مالش کا ارشاد فرمایا تھا۔نوٹ: آپ کے مزید سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن ۵ (۲) تحفہ قیصریہ روحانی خزائن جلد ۱۲ (۳) سراج منیر روحانی خزائن جلد ۱۲ (۴) کتاب البریہ روحانی خزائن جلد ۱۳ (۵) تذکرة المهدی (۵) عسل مصفی حصہ دوم صفحه ۰۲ ۵ تا ۵۰۴ - ۱۸۷۔حضرت میاں اللہ دتا خان صاحب اڈیالہ جہلم بیعت : ابتدائی زمانہ میں تعارف و بیعت : حضرت میاں اللہ دتا خاں رضی اللہ عنہ اڈیالہ جہلم کے رہنے والے تھے۔آپ کی بیعت ابتدائی زمانہ کی ہے۔حضرت اقدس کی کتاب آریہ دھرم سے اتنا معلوم ہوسکا ہے کہ آپ گورنمنٹ ہند کے پاس مذہبی مباحثات سے متعلق بھجوائے گئے۔ایک نوٹس کے دستخط کنندگان میں سے تھے۔نوٹ: آپ کے مزید سوانحی حالات نہیں مل سکے۔ماخذ : (۱) ضمیمہ انجام آتھم روحانی خزائن جلد ۱ (۲) آر یہ دھرم روحانی خزائن جلد۱۰۔۱۸۸۔حضرت محمد حیات صاحب چک جانی جہلم ولادت : ۱۸۶۱ء۔بیعت : ۹۲-۱۸۹۱ء۔وفات : ۱۴ار جولائی ۱۹۴۶ء تعارف: حضرت محمد حیات رضی اللہ عنہ کے والد کا نام میاں کرم الدین صاحب تھا۔آپ کا تعلق چک جانی تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم (چکوال) سے ہے۔آپ کی ولادت ۱۸۶۱ء کی ہے۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد ریلوے پولیس میں ملازم ہوئے۔