تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا

by Other Authors

Page 165 of 379

تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 165

165 ☆ -۱۰۸۔حضرت قاضی خواجہ علی صاحب۔اودیانہ بیعت : ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء۔وفات : ۲۴ /اگست ۱۹۱۲ء تعارف : حضرت قاضی خواجہ علی رضی اللہ عنہ حضرت اقدس کے ایک مخلص اور عاشق صادق لدھیانہ کے رہنے والے تھے۔حضرت اقدس سے تعلق اخلاص : حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ازالہ اوہام میں حضرت قاضی خواجہ علی رضی اللہ عنہ کو اپنے منتخب دوستوں میں شمار کیا ہے اور لکھا کہ قاضی صاحب ہمیشہ خدمت میں لگے رہتے ہیں اور ایام سکونت لودھیا نہ میں ایک بڑا حصہ مہمانداری کا خوشی کے ساتھ اپنے ذمے لے لیتے ہیں۔حضرت اقدس فرماتے ہیں: موصوف اس عاجز کے منتخب دوستوں میں سے ہیں۔محبت و خلوص و وفا وصدق وصفا کے آثاران کے چہرہ پر نمایاں ہیں۔خدمت گزاری میں ہر وقت کھڑے رہتے ہیں۔حقانیت کی روشنی ایک بے غرضانہ خلوص اور لکھی محبت میں دمبدم ان کو ترقی دے رہی ہے۔وہ دنیوی طور سے ایک صحیح اور بار یک فراست رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل نے اس عاجز کی روحانی شناسائی کا بھی ایک قابل قدر حصہ انہیں بخشا ہے۔“ (ازالہ اوہام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۲۹ _۵۳۰) آپ مشہور رفیق ( یکے از ۳۱۳) حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب گوڑیانی کے سُسر تھے۔بیعت : لدھیانہ میں ۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کو حضرت قاضی خواجہ علی کو تیسرے نمبر پر بیعت کرنے کی سعادت ملی۔خدمت سلسلہ: آپ عمر کے آخری حصہ میں قادیان آگئے تھے اور مہتم لنگر خانہ کے فرائض نہایت درجہ استقلال کے ساتھ ادا کرتے رہے۔جب علماء نے حضرت اقدس مسیح موعود کے بارے میں کفر کا فتویٰ دیا تو آپ نے ایک نکتہ لطیف سے غلام دستگیر قصوری علماء میں سے ایک کے قصوری ہونے کا ذکر فرمایا کہ ایسے قصوری کا فتویٰ کیسے درست ہو سکتا ہے۔وفات : آپ ۲۴ / اگست ۱۹۱۲ء کو لدھیانہ میں فوت ہوئے اور بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔ماخذ : (۱) ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۲۹ (۲) سیرت المہدی حصہ دوم روایت نمبر ۳۰۹ (۳) تاریخ احمدیت جلد اصفحه ۳۹ (۴) ذکر حبیب (۵) رجسٹر روایات صحابہ نمبر ۸ صفحه ۳ بروایت حضرت مولانا محمد ابراہیم بقا پوری۔