تین سو تیرہ اصحاب صدق و وفا — Page 156
156 کو ایک خط ایسے انکسار سے لکھا جس میں انہوں نے در حقیقت اپنے تئیں اپنے دل میں سلسلہ بیعت میں داخل کر لیا۔چنانچہ انہوں نے اس سے سیرۃ صالحین پر اپنا تو بہ کا اظہار کیا اور اپنی مغفرت کے لئے دعا چاہی اور لکھا کہ میں آپ کی لہمی ربط کے زیر سایہ اپنے تئیں سمجھتا ہوں اور پھر لکھا کہ میری زندگی کا نہایت عمدہ حصہ یہی ہے کہ میں آپ کی جماعت میں داخل ہو گیا ہوں اور پھر کسر نفسی کے طور پر اپنے گذشتہ ایام کا شکوہ لکھا اور بہت سے رقت آمیز ایسے کلمات لکھے جن سے رونا آتا تھا۔اس دوست کا وہ آخری خط جو ایک دردناک بیان سے بھرا ہے اب تک موجود ہے مگر افسوس کہ حج بیت اللہ سے واپس آتے وقت اس مخدوم پر بیماری کا ایسا غلبہ طاری ہوا کہ اس دور افتادہ کو ملاقات کا اتفاق نہ ہوا بلکہ چند روز کے بعد ہی وفات کی خبر سنی گئی اور خبر سنتے ہی ایک جماعت کے ساتھ قادیان میں نماز جنازہ پڑھی گئی۔حاجی صاحب اظہار حق میں بہت بہادر آدمی تھے۔بعض نا فہم لوگوں نے حاجی صاحب موصوف کو اس عاجز سے تعلق ارادت رکھنے سے منع کیا کہ اس میں آپ کی کسر شان ہے۔لیکن انہوں نے فرمایا کہ مجھے کسی شان کی پرواہ نہیں اور نہ مریدی کی (ازالہ اوہام جلد دوم صفحه ۵۶۹،۵۳۸) براہین احمدیہ چھپی تو حضرت منشی صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعارف ہوا۔آپ نے اس کی حاجت 66 تائید میں ایک طویل اشتہار شائع کیا جس میں ایک شعر تھا ہم مریضوں کی ہے تہی پر نگاہ تم مسیحا بنو حضرت صوفی صاحب کا تذکرہ از حضرت مصلح موعود: بنو خدا کے لئے حضرت مسیح موعود ایک دفعہ لدھیانہ تشریف لے گئے حضرت خلیفہ اول کے خسر صوفی احمد جان جو ایک مشہور پیر اور بزرگ انسان تھے اور جنہوں نے حضرت مسیح موعود کی کتاب ” براہین احمدیہ بھی پڑھی ہوئی تھی۔انہوں نے آپ کی تشریف آوری کی خبر سنی تو بڑے خوش ہوئے اور ایک مرید سے جو کابل کے شہزادوں میں سے تھے آپ کی دعوت کروائی۔حضرت مسیح موعود ان کے مکان پر تشریف لے گئے اور جب کھانے سے فارغ ہوئے تو صوفی صاحب آپ کو مکان تک پہنچانے کے لئے آپ کے ساتھ ہی چل پڑے۔صوفی احمد جان رتر چھتر والوں کے مرید تھے ( رتر چھتر گورداسپور کے علاقہ میں ہے ) حضرت مسیح موعود نے راستہ میں دریافت فرمایا که صوفی صاحب سنا ہے رتر چھتر والوں کی آپ نے بارہ سال تک خدمت کی ہے۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ نے ان کی صحبت سے کیا فیض حاصل کیا ؟ انہوں نے کہا حضور ! وہ بڑے بزرگ اور باخدا انسان تھے۔میں بارہ سال ان کی صحبت میں رہا اور بڑا فائدہ حاصل کیا۔پھر انہوں نے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا جو ان کے پیچھے آرہا تھا اور کہا حضور ! ان کی برکت سے اب مجھ میں اتنی طاقت پیدا ہو چکی ہے کہ اگر میں اس شخص کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھوں تو فور از مین پر گر پڑے اور تڑپنے لگ جائے حضرت مسیح موعود