اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 42
اصحاب بدر جلد 5 42 کہ آئندہ وہ ہر قسم کی مشرکانہ چیز سے قطعی پر ہیز کریں گے حتٰی کہ مشرک کے ساتھ چھوٹیں گے بھی نہیں۔حضرت عمر کو جب ان کی شہادت اور اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو کہنے لگے کہ خدا بھی اپنے بندوں کے جذبات کی کتنی پاسداری فرماتا ہے۔موت کے بعد بھی اس نے عاصم کے عہد کو پورا کروایا اور مشرکین کے مس سے انہیں محفوظ رکھا۔"118 آپ کو حیی الدبر بھی کہا جاتا ہے یعنی جسے بھڑوں یا شہد کی مکھیوں کے ذریعہ بچایا گیا۔اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد بھی بھڑوں کے ذریعہ آپ کی حفاظت کی۔حضرت عاصم اور ان کے اصحاب کی شہادت کے بعد رسول اللہ صلی الم نے مہینہ بھر نماز فجر میں قنوت فرمایا جس میں رعل ، ذکوان اور بنو تختیان پر لعنت کرتے رہے۔119 ایک اور روایت میں آتا ہے کہ حضرت عاصم دشمن کے مقابلے میں تیر برساتے جاتے اور ساتھ یہ شعر پڑھتے جاتے تھے کہ : الْمَوْتُ حَقٌّ وَالْحَيَوةُ بَاطِل وَكُلُّ مَا قَطَى الْإِلَهُ نَازِلُ بِالْمَرْءِ وَالْمَرْءُ إِلَيْهِ ايل یعنی موت برحق ہے اور زندگی بیکار ہے اور خدا کسی انسان کے بارے میں جو فیصلہ کرے وہی نازل ہونے والا ہے اور اس انسان کو بھی اس فیصلہ کو قبول کرنا ہو گا۔جب حضرت عاصم کے تیر ختم ہو گئے تو وہ نیزے سے لڑنے لگے۔نیزہ بھی ٹوٹ گیا تو تلوار نکال لی اور لڑتے لڑتے جان دے دی۔120 قطعی حضرت عاصم کے ایک بیٹے محمد تھے جو کہ ہند بنت مالک کے بطن سے تھے۔121 جنگ احد میں جو لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے ان کے بارے میں ایک آیت کی تشریح میں حضرت خلیفہ رابع نے بھی بیان کیا ہے کہ حضرت امام رازی چودہ آدمیوں کے متعلق قو شہادت پیش کرتے ہیں کہ نام بنام وہ لوگ موجود تھے اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ کسی حالت میں نہیں چھوڑا۔ان کے ناموں میں جو نام درج ہیں ان میں مہاجرین میں سے حضرت ابو بکر حضرت علی شیعہ یہی کہتے ہیں صرف حضرت علی تھے لیکن حضرت ابو بکر، حضرت علیؓ اور حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجرائح اور حضرت زبیر بن عوائم تھے۔انصار میں سے خباب بن مندر، حضرت ابودجانہ، حضرت عاصم بن ثابت، حضرت حارث بن صمہ نہ ہیں شاید حضرت سہل بن حنیف اور اسی طرح اُسید بن حضیر بھی۔حضرت سعد بن معاذ وغیرہ بھی تھے۔یہ بھی ذکر آتا ہے کہ آٹھ وہ تھے جنہوں نے موت پر قسم کھائی تھی۔تین مہاجرین میں سے تھے اور پانچ انصار میں سے تھے اور یہ عجیب بات ہے کہ اس وقت چونکہ رسول اللہ صلی علی یم کو اپنے خدام کی ضرورت تھی اس لئے آٹھ کے آٹھ جنہوں نے موت پر قسم کھائی تھی ان میں سے ایک بھی شہید نہیں ہوا۔یہ اللہ تعالیٰ کی ان کی غیر معمولی طور پر حفاظت کا نظارہ تھا۔122