اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 506 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 506

اصحاب بدر جلد 5 506 میں یہ بھی بتادوں کہ تقریباً یہ کھجوریں جو حضرت عاصم نے پیش کیں چودہ ہزار کلو یا چودہ ٹن بنتی ہیں تو اسی پہ منافقوں نے کہا کہ دکھاوا ہے۔یہاں یہ بھی وضاحت کر دوں گذشتہ خطبے میں میں نے غلطی۔ایک calculation میں چھے سو کلو کھجور کا کہا تھاوہ چھے سو نہیں چھے ہزار کلو تھی۔بہر حال جب منافقوں نے یہ الزام لگایا کہ یہ ریا کاری ہے تو اللہ تعالیٰ نے سورہ توبہ میں یہ آیت نازل فرمائی الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَوَعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقْتِ وَ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جهدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيمُ (اتوب : 79) کہ وہ لوگ جو مومنوں میں سے دلی شوق سے نیکی کرنے والوں پر صدقات کے بارے میں تہمت لگاتے ہیں اور ان لوگوں پر بھی جو اپنی محنت کے سوا اپنے پاس کچھ نہیں پاتے۔پس وہ ان سے تمسخر کرتے ہیں اللہ ان کے تمسخر کا جواب دے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب مقدر ہے۔یہ ان منافقوں کے لیے یا ان لوگوں کے لیے ہے جو ایسے الزام لگانے والے ہیں۔گذشتہ خطبے میں میں حضرت هلال بن امیہ کا ذکر کر رہا تھا اور اس ذکر میں غزوہ تبوک کا بھی ذکر آگیا۔حضرت هلال ان تین پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھے جو اس غزوے میں شامل نہیں ہوئے تھے۔آنحضرت صلی اللہ کریم نے غزوے سے واپسی پر ان لوگوں سے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور کچھ سزادی جس پر یہ تینوں بڑے بے چین تھے اور اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے استغفار اور تو بہ کرتے رہے یہاں تک کہ ان تین صحابہ کی گریہ وزاری جن میں حضرت هلال بھی شامل تھے اللہ تعالیٰ کے حضور قبول ہوئی اور ان کی معافی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔1169 1170 بہر حال اس بارے میں یہ بھی بیان ہوا تھا کہ صحابہ نے اس غزوے کی تیاری کے لیے کس قدر قربانیاں دی تھیں اور یہ بھی ذکر تھا کہ بعض اور لوگ جن کے دلوں میں نفاق تھا اس میں شامل نہیں ہوئے اور آنحضرت صلی الم کی خدمت میں جھوٹے عذر پیش کیے۔بعض نے شروع میں جانے سے انکار کیا اور آپ نے ایسے منافقوں کا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑا۔اس تسلسل میں کچھ اور باتیں ہیں جو میں اس وقت پیش کروں گا۔وہ لوگ جو آنحضرت علی ایم کے ساتھ نہ جانے کو ترجیح دے رہے تھے ان میں ایک شخص جذ بن قیس تھا۔آپ صلی اللہ کریم نے اس سے فرمایا کہ تم رومیوں سے جنگ کے لیے ہمارے ساتھ نہیں چلو گے ؟ اس نے یہ بہانہ بنایا کہ وہ عورتوں کی وجہ سے فتنے میں پڑ سکتا ہے اس لیے اسے آزمائش میں نہ ڈالا جائے۔چنانچہ آپ صلی علیہ یکم نے اس سے اعراض کیا اور اسے اجازت دے دی۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی کہ وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ الذَنَ لِي وَلَا تَفْتِى أَلَّا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌ بِالْكَافِرِينَ (اتو ب : 419) اور ان میں سے وہ بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے رخصت دے اور مجھے فتنہ میں نہ ڈال۔خبر دار وہ فتنہ میں پڑچکے ہیں اور یقینا جہنم کا فروں کو ہر طرف سے گھیر لینے والی ہے۔