اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 503 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 503

اصحاب بدر جلد 5 503 وَعَلَى الثَّلَثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا۔۔۔سے مراد حضرت کعب کہتے تھے کہ ہم تینوں کا فیصلہ ان لوگوں کے فیصلے سے زیادہ مؤخر رکھا گیا جن سے رسول اللہ صلی الم نے عذر قبول کیا تھا۔جب انہوں نے آپ کے سامنے قسمیں کھائیں اور آپ نے ان سے بیعت لی اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی تھی اور رسول اللہ صلی علیم نے ہمارے فیصلے کو ملتوی کر دیا یہاں تک کہ اللہ نے اس کے متعلق فیصلہ فرمایا۔سو وہ یہی بات ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ وَعَلَى الثَّلَثَةِ الَّذِينَ خُلِفُوا (او : 118) کہتے ہیں کہ یہ غزوہ سے ہمارا پیچھے رہنا نہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ تین جو پیچھے رہ گئے تھے۔اس سے مراد ہمارا غزوے سے پیچھے رہنا نہیں تھا بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ کے فیصلے سے ہمیں ان لوگوں سے پیچھے رکھا گیا تھا۔اس سے یہ مراد ہے جنہوں نے آنحضرت صلی کم کے پاس قسمیں کھائی تھیں یعنی ہم ان قسمیں کھانے والوں سے اور جھوٹ بولنے والوں سے علیحدہ تھے۔یہ اس کا مطلب ہے نہ یہ کہ جنگ سے پیچھے رہ گئے۔بہر حال کہتے ہیں کہ یہ غزوہ سے ہمارا پیچھے رہنا نہیں تھا بلکہ اللہ کے فیصلے سے ہمیں ان لوگوں سے پیچھے رکھنا مراد ہے کہ جنہوں نے آنحضرت صلی علیم کے پاس قسمیں کھائی تھیں اور آپ کے پاس معذرتیں کی تھیں اور آپ نے ان کی معذرت قبول کر لی تھی۔وفات حضرت هلال بن امیه امیر معاویہ کے دورِ حکومت میں فوت ہوئے تھے۔غزوہ تبوک 1161 1160 1159 غزوہ تبوک کے بارہ میں ایک اور مختصر نوٹ بھی ہے وہ بھی پڑھ دیتا ہوں۔پہلے بتا بھی چکا ہوں ایک دفعہ مزید مختصر دوبارہ بیان کر دیتا ہوں کہ تبوک مدینے سے شام کی اس شاہ راہ پر واقع ہے جو تجارتی قافلوں کی عام گزر گاہ تھی اور یہ وادی القریٰ اور شام کے درمیان ایک شہر ہے۔اسے اَصْحَابُ الْآئكة کا شہر بھی کہا گیا ہے جن کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔حضرت شعیب علیہ السلام مدین کے رہنے والے تھے اور آپ مدین کے ساتھ اَصْحَاب الْآئیگہ کی طرف بھی مبعوث ہوئے اور مدینے سے اس کا فاصلہ کم و بیش پونے چار سو میل ہے۔غزوہ تبوک کے اور نام بھی ہیں اس کو غَزَوَةُ الْعُسْرَة يَا جَيْشُ الْعُشرة بھی کہتے ہیں یعنی تنگی والا غزوہ اور تنگی والا لشکر۔غَزَوَةُ الْفَاضِحَةُ بھی کہتے ہیں وہ جنگ جو منافقین کو ذلیل و رسوا کرنے والی تھی۔62 آنحضرت صلی ا ہم نے صلح حدیبیہ کے بعد سب سے پہلا تبلیغی خط قیصر روما کو لکھا اور اس کو لکھ کر اس وقت بضری کا جو عیسائی گورنر حارث بن ابو شمر عسانی تھا، کو یہ خط بھجوایا۔چنانچہ جب اسے آنحضرت ملا یہ کم کا پیغام پہنچا تو اس نے عداوت کا اظہار کیا اور مدینے پر حملہ کی دھمکی دی جس کی وجہ سے مدینے کے لوگوں کو ایک عرصے تک یہ توقع رہی کہ وہ کسی وقت مدینے پر حملہ کرے گا۔1163 1162