اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 485
اصحاب بدر جلد 5 485 ہو گئے تھے۔جب ان کی تعزیت اس عورت سے کی گئی تو اس نے پوچھار سول اللہ صلی علی ظلم کا کیا حال ہے ؟ تو لوگوں نے کہا کہ اے ایم فلاں ! آپ ٹھیک ہیں اور الحمد للہ ایسے ہی ہیں جیسے کہ تو پسند کرتی ہے ، تو اس عورت نے جواب دیا کہ مجھے دکھاؤ میں آپ کو دیکھنا چاہتی ہوں۔تو پھر اس عورت کو رسول اللہ صلی علیکم کی طرف اشارہ کر کے دکھایا گیا۔جب اس نے آنحضرت صلی ای کم کو دیکھا تو کہنے لگی کہ ہر مصیبت آپ کے بعد معمولی ہے۔1129 ایک اور روایت میں اس عورت کے بیٹے کے شہید ہونے کا ذکر بھی ملتا ہے۔حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے موقعے پر جب اہل مدینہ بہت گھبراہٹ کا شکار ہو گئے تھے کیونکہ یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی الیوم کو شہید کر دیا گیا ہے حتی کہ مدینے کے گلی کوچوں میں چیخ پکار مچ گئی تھی تو ایک انصاری خاتون پریشان ہو کر گھر سے نکلی تو اس نے آگے اپنے بھائی، بیٹے اور شوہر کی لاش دیکھی۔راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ پہلے اس نے کیسے دیکھا تھا مگر جب وہ آخری کے پاس سے گزری تو اس نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا کہ تیر ابھائی، تیرا شوہر، تیرا بیٹا ہے۔اس نے پوچھار سول اللہ صلی علیکم کا کیا حال ہے ؟ لوگوں نے کہاوہ آگے ہیں۔وہ عورت چلتی ہوئی رسول اللہ صلی للی تم تک پہنچی اور اس نے رسول اللہ صلی میں نیم کا دامن تھام لیا اور پھر کہا کہ یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر قربان اجب آپ سلامت ہیں تو مجھے کسی نقصان کی کوئی پروا نہیں۔1130 ایک قول کے مطابق اس عورت کا نام سمیراء بنت قیس تھا جو نُعمان بن عبد عمرو کی والدہ 1131 میر اول چاہتا ہے کہ میں اس مقدس عورت کے دامن کو چھوؤں اور پھر اپنے ہاتھ آنکھوں سے لگاؤں حضرت مصلح موعودؓ نے ایک موقعے پر اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام میں اس بہادری کی مثالیں بہت کثرت سے ملتی ہیں۔دنیوی لوگوں میں تو کروڑوں لوگوں اور سینکڑوں ملکوں میں سے ایک آدھ مثال ایسی مل سکے گی مگر صحابہ میں، چند ہزار صحابہ میں سینکڑوں مثالیں ملتی ہیں۔کیسی اعلیٰ درجہ کی یہ مثال ہے جو ایک عورت سے تعلق رکھتی ہے اور حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میں کئی دفعہ اسے بیان کر چکا ہوں۔( یہ مثال میں بھی یہاں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں) اور جو اس قابل ہے کہ ہر مجلس میں سنائی جائے اور اس کی یاد کو تازہ رکھا جائے۔بعض واقعات ایسے شاندار ہوتے ہیں کہ بار بار سنائے جانے کے باوجو د پرانے نہیں ہوتے۔ایسا ہی واقعہ اس عورت کا ہے جس نے جنگ احد کے موقعے پر مدینے میں یہ خبر سنی کہ آنحضرت صلی علی کرم شہید ہو گئے ہیں۔وہ مدینے کی دوسری عورتوں کے ساتھ گھبر اکر باہر نکلی اور جب پہلا سوار احد سے واپس آتے ہوئے اسے نظر آیا تو اس نے اس سے دریافت کیا کہ آنحضرت صلی غیر کم کا کیا حال ہے؟ اس نے کہا کہ تمہارا خاوند مارا گیا ہے۔اس نے کہا میں نے تم سے رسول کریم صلی علیم کے متعلق سوال کیا ہے اور تم میرے خاوند کی خبر سنارہے ہو۔اس نے پھر کہا کہ تمہارا باپ بھی مارا گیا ہے۔مگر اس عورت نے کہا میں تمہیں رسول کریم صلی ایم کے متعلق پوچھتی ہوں اور تم